احمد کمال،اسلام آباد

جبران شنواری،لنڈی کوتل


پاک افغان بارڈر پر امدادی قافلے میں شامل ایک ٹرک سے پاکستان کے قومی پرچم کو توہین آمیز انداز میں اتارے جانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے ،اور افغان اہلکاروں کے رویہ کو افسوسناک قراردیا جارہا ہے

مقامی ذرائع کے مطابق مذکورہ ویڈیو دو روز پرانی ہے جب پاکستان سے افغان عوام کیلئے اشیاء خورونوش سے لدے ٹرک افغان حدود میں داخل ہوئے تو وہاں بارڈر پر موجود اہلکاروں نے ٹرک کو روکا اور اس پر نصب پاکستانی پرچم کو انتہائی توہین آمیز انداز میں اتار کر لے گئے

http://https://fb.watch/89It8YIrQ_/

منظرعام پر آنے والی ویڈیو میں وہاں موجود دیگر اہلکاروں اور شہریوں کو خوشی سے چیختے چلاتے اور نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔واضح رہے کہ گذشتہ دور روز کے دوران پاک افغان تعاون فورم کی جانب سے افغانستان میں جنگ سے متاثرہ علاقوں کے عوام کیلئے کئی سو ٹن کھانے پینے کی اشیاء دالیں ،گھی اور دوائیں روانہ کی گئیں

پہلے روز 17 ٹرک جبکہ دوسرے روز مزید چار ٹرک بھیجے گئے ،جو افغانستان کے مختلف صوبوں میں مستحق اور متاثرہ افراد کےدرمیان تقسیم کی جائیں گی ۔جبکہ پہلے روز تقریب کے دوران طالبان انتظامیہ کے مقامی ذمہ داروں نے مشکل وقت میں پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے مدد فراہم کرنے پر نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا


یہ بھی پڑھیں


تاہم حالیہ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی عوام کی جانب سے انتہائی دکھ اور رنجیدگی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔البتہ غیرملکی سوشل میڈیا صارفین اس واقعہ کو دوطرفہ نفرت کو بڑھانے کےلئے پوری طرح سرگرم ہیں

البتہ پاکستانی صارفین کی اکثریت کی جانب سے یہ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ طالبان قیادت اس واقعہ کا نوٹس لے گی اور واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔جو بے بنیاد اور کم فہمی پر مبنی رویوں کی وجہ سے دوبرادر ملکوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔وہ بھی ایسے وقت میں جب دونوں ممالک اور ان کے عوام کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے

واقعہ میں ملوث اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیدیا ،طالبان ترجمان

دوسری جانب افغان طالبان کے ٹوئٹر اکائونٹس پر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا بیان شیئر کیا جارہا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پرچم کی توہین کرنے والے اہلکاروں کی گرفتاری اور انہیں غیرمسلح کرنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے 

انہوں نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام رہنمائوں نے بھی اس پر افسوس کا اظہار کی ہے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے

سوشل میڈیا پر ردعمل

شافی اعظم نامی ایک افغان شہری نے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ عمل تمام افغان شہریوں کے طرز عمل کی نمائندگی نہیں کرتا ۔ہم افغان ان تمام ممالک کی قدر کرتے ہیں جو اس مشکل وقت میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔پاکستان ہمارا مسلم برادر ملک ہیں جہاں ابھی بھی لاکھوں افغان شہری مقیم ہیں اور اس پر ہم پاکستانی عوام کے شکرگزار ہیں

 

عامر حمید نامی صارف نے ذبیح اللہ مجاہد اور انس حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے سوال پوچھا کیا کام کرنے والے افغان اہلکاروں کا کوئی ضابطہ اخلاق موجود ہے یا ہر اہلکار اپنے مزاج کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ؟

اسماء مقصود نامی ایک ٹوئٹر صارف نے کہا

نفرت پھیلانا بند کرو ،وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا ۔ہم نے بھی اپنی سرزمین ان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیکر ان کے ساتھ اچھا نہیں۔لیکن معاملات بہتر ہوجائیں گے ،حتی کے ایک گھر کو لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے وقت لگتا ہے۔اعتماد سازی بہت سا وقت لیتی ہے


پاکستانی جامعات میں زیرتعلیم 350 افغان طلباء پاکستان پہنچ گئے

پاکستان محسن برادر پڑوسی ملک ہے، پاکستان کے احسانات فراموش نہیں کر سکتے، پاکستانی جھنڈا گاڑی سے توہین آمیز انداز میں اتارنے والی ویڈیو دیکھ کر دلی دکھ اور افسوس ہوا، طورخم بارڈر پر پاکستان آنے والے افغان طلباء کے تاثرات۔

طورخم بارڈر پر 350 کے لگ بھگ افغان طلباء پاکستان آئے جن کے طورخم بارڈر پر کورونا وائرس کے ٹیسٹ کئے گئے مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں میں پہنچانے کے لئے گاڑیاں فراہم کی گئیں یہ سارے وہ افغان طلباء ہیں جو سکالر شپس پر پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں

پاکستان آنے والے افغان طلباء نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بارے میں بتایا کہ پاکستانی جھنڈے کو 19 ستمبر کو امدادی سامان کی گاڑی سے طورخم بارڈر پر افغان طالبان نے توہین آمیز انداز میں اتار کر دنیا کو ایک غلط پیغام دیا ہے جس کا طالبان کے متعلقہ ذمہ داران کو سخت نوٹس لینا چاہئے

افغان طلباء نے بتایا کہ افغان قوم پاکستان کے احسانات کو بھولا نہیں سکتی اور چالیس سال تک پاکستان نے افغانستان کے مہاجرین کی جو خدمت کی ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری میں پاکستان پہلا اسلامی اور افغانستان کا برادر پڑوسی ملک ہے جنہوں نے آزمائش اور مشکل کی اس گھڑی میں افغان عوام کی مدد کے لئے امدادی سامان مہیا کیا

طورخم بارڈ کی تاجر برادری کا افغان اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ

تاہم طورخم بارڈر پر تعینات افغان طالبان نے امدادی سامان کی گاڑی سے پاکستان کا قوم جھنڈا توہین آمیز انداز میں اتار کر انتہائی غلط اقدام کیا ہے جس پر سارے افغان رنجیدہ ہیں اور افسوس کا اظہار کیا ہے دوسری طرف طورخم کسٹم حکام، پولیس کے اہلکاروں اور کاروباری لوگوں نے بھی امدادی سامان کی گاڑی سے پاکستان کا قومی جھنڈا اتارنے اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کروانے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا

اور افغان طالبان سے بارڈر پر تعینات ان کے اہلکاروں سے پوچھ گچھ کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ آئندہ کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے دونوں برادر پڑوسی ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں.

 

 

Translate »