کمال احمد


افغانستان کے دارلحکومت کابل میں واقع سب محفوظ علاقے یعنی گرین زون میں بم دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے ،

افغان حکام کے مطابق بڑا دھماکہ ممکنہ طور پر ملک کے قائم مقام وزیر دفاع کو نشانہ بنانے کیلئے کیا گیا ہے جبکہ اس علاقے میں مزید چھوٹے دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں

حکام نے اب تک 8 افراد کے مارے جانے اور 23 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہے ،جبکہ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور اس طرح کے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے ۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان میرویس ستانکزئی کے مطابق پہلا دھماکہ شیرپور میں ہوا جو حفاظتی لحاظ سے انتہائی محفوظ علاقہ ہے ،جہاں کئی اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کی رہائش گاہیں واقع ہیں

انہوں نے کہا اس حملے کا نشانہ ممکنہ طور پر قائم مقام وزیردفاع کی رہائش گاہ تھی جو اس وقت وہاں موجود نہ تھے ،جبکہ ان کے اہل خانہ کو وہاں سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے


یہ بھی پڑھیں:

ملک کے دیگر حصوں میں اہم کاروباری مراکز اور شہری و دیہی اضلاع پر ہر گزرتے دن کے ساتھ گرفت مضبوط کرتے طالبان کی جانب سے حالیہ عرصہ کے دوران یہ پہلی بڑی کاروائی ہے

اس سے قبل بدھ کے روز بھی متعدد سرکاری عمارات کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن ان حملوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی

جبکہ وزارت دفاع کے مطابق حملے میں شامل چاروں حملہ آوروں کو ماردیا گیا ہے اور سیکورٹی فورسز علاقے میں آپریشن کررہی ہے ۔علاقے کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بھی بند کردیا گیا ہے

کابل میں نعرہ ہائے تکبیر کی گونج

دریں اثنا گذشتہ شب سے افغان دارلحکومت کابل کے مختلف مقامات پر طالبان سے نبردآزما افغان نیشنل آرمی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے شہریوںاور حکومتی اراکین ریلیاں نکال رہے ہیں

جن کا مقصد اپنی فوج کو ہمت دلانا اور انکے جذبوں کو بڑھانا ہے ۔کیوں کہ اس وقت افغان نیشنل آرمی کو ملک بھر میں طالبان کے خلاف مزاحمت میں مشکلات کا سامنا ہے اور اب تک وہ کئی اہم شہروں سے پسپائی اختیار کرچکے ہیں

کابل اور چند دیگر شہروں میں ہونے والے  مظاہروں اور ریلیوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی ،اس دوران مظاہرین کی جانب سے اللہ اکبر کے بلند شگاف نعرے بھی بلند کئے گئے ۔سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں سڑکوں ،گھروں اور چھتوں پر نوجوان مرد و خواتین اور بچوں کو نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور اب تک ہزاروں سوشل میڈیا صارفین ان ویڈیوز کو شیئر کرچکے ہیں ۔

Translate »