جدید اور مہذب کہلانے والی دنیا جس کے امریکہ ،برطانیہ اور چند دیگر ممالک سرخیل اور رہبر بنے ہوئے ہیں ،ان کے ایجنڈے میں جہاں جمہوریت کا نفاذ پوری دنیا کیلئے لازمی ہے وہیں آزادی اظہار ان کی نظریاتی اساس ہےلیکن جمہوریت کی طرح آزادی اظہار کے معاملے پر مغربی دنیا بدترین دوغلے پن کا شکار ہے ،جس کی مثال گذشتہ دو دہائیوں سے افغانستان کا معاملہ ہے ،جہاں میڈیا اور سوشل میڈیا پر آزادی اظہار کی دو رخی پالیسی روا رکھی گئی ۔ گیارہ ستمبر 2001ء سے شروع ہونے والی پالیسیاں اگلے کئی برسوں تک کر رکھی تھی، پوری دنیا کا میڈیا وہی بتانے پر مجبور کیا گیا جو امریکہ بتانا چاہتا تھا ۔

تب جس نے یہ سوال اٹھایا کہ امریکہ بہادر تو خود اس حالت کا ذمہ دار ہے تو اگلے روز اسے اٹھا لیا گیا ۔ امریکہ جنہیں کچلنے آیا تھا وہ دس سال پہلے تک امریکہ کے منظور نظر رہ چکے تھے ۔ مگر 2001ء کے بعد ان کی حالت کیڑے مکوڑوں سے بد تر کر دی گئی مگر میڈیا پر امریکی طیاروں اور میزائیلوں کی صلاحیتوں کے گن گانے پر مجبور رہا ۔ مرنے والے کون تھے؟ ان کا جرم کیا تھا؟

پاکستان اور افغانستان کے مابین عوامی سطح پر رشتہ صدیوں قدیم ہے ،جو حالات کے نشیب و فراز کے باوجود برقرار رہا ،15 اگست کے بعد پاکستان نے جنگ سے متاثرہ ملک کی بحالی و مدد کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے

کارپٹ بمباری جن پر ہوئی یہ وہی جانتے ہیں ۔ جب افغانستان میں جمہوریت کا بیج زمین پر میزائلوں اور بموں کے ذریعے بویا گیا ۔ کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ طاقت کے زور پر بنائی گئی حکومت جائز ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر کسی نے ایسا سوچا بھی تو اسے بگرام سے گوانتانامو بے تک پھیلے سی آئی اے کے بدنام زمانہ حراستی مراکز میں ڈال دیا گیا ۔ جہاں کی داستانیں سن کر بھی انسان لرز جائے۔

یہ کہنا کہ موجودہ افغان قیادت نے بندوق کی نوک پر اقتدار حاصل کیا اس لییے جائز نہیں تو ساتھ یہ بھی بتایا جائے کہ پھر افغانستان میں اسلحے اور عسکری طاقت کے زور پر لائی گئی جمہوریت (جو فی زمانہ کالعدم ہے) کیسے جائز تھی؟ اگر یہ حقیقت میں جمہوریت ہوتی تو نیئے آنے والوں کا استقبال نہ ہوتا مزاحمت ہوتی ۔

جدید جنگی ساز و سامان اور تربیت سے لیس ساڑھے تین لاکھ فوج اور درجنوں سیاسی پارٹیاں ، ان کے کارکنان ، اور عوامی نمائندے بھاگنے کی بجائے مزاحمت کرتے تو اسے جمہوریت کہنا جائز بھی ہوتا ۔ جمہوریت تو عوام کی حکومت ہوتی ہے یہاں تو خواص بلکہ امریکہ کے منظور نظر خواص کی حکومت کو جمہوریت بنا کر چلایا جا رہا تھا جس کی کرپشن اور بدترین انتظامی صلاحیتوں سے ہر کوئی تنگ تھا ۔ سب سے زیادہ تنگ تو امریکی تھے ۔ جنہیں یہاں ڈالر لٹاتے لٹاتے کئی سال گزر گئے مگر حاصل وصول کچھ نہ ہوا۔


یہ بھی پڑھیں


اقتدار ہمیشہ طاقتور کے پاس ہوتا ہے ۔ طاقت اور اقتدار لازم و ملزوم ہیں ۔ خواہ آپ اسے جمہوریت قرار دے کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکیں یا آمریت ۔یہی کچھ افغانستان میں بھی ہو رہا تھا ۔ جب پچیس سال پہلے افغانستان کی موجودہ حکمران جماعت کا ظہور ہوا ۔

حقائق یہ بتاتے ہیں کہ بدخشاں اور کنڑ سے لے کر قندھار اور ہلمند تک قابض وار لارڈز میں ایسے لوگ بھی تھے جو بچوں کو اغواء کر کے ان کا ریپ کرتے ۔ لوگوں کی فصلیں اجاڑ دیتے ۔ قتل کر دیتے اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کرتے ۔ تجارتی قافلوں کو لوٹتے ، اور یوں روسی مداخلت ختم ہونے کے بعد بھی خانہ جنگی جاری رہی۔
ان وار لارڈز کا مقابلہ روسی مداخلت کے وقت چودہ پندرہ سال قبل گھر بار چھوڑ کر پاکستان آنے والے مہاجرین کی اگلی نسل نے کیا ۔

مہاجرین کے وہ بچے جو مدارس میں پڑھے تھے وہ مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئےاور ظلم کرنے والوں کو ٹھکانے لگا کر امن بحال کیا ۔ پاکستان کا یہ قصور ہر گز نہیں کہ اس نے سابقہ وار لارڈز کا ساتھ کیوں نہیں دیا ۔ ان کا ساتھ دینے کی بجائے اچھے لوگوں کا ساتھ دینا غلط نہیں درست فیصلہ تھا۔ یا مجبوری کہہ لیجیئے کہ وہ وہاں کی زندہ زمینی حقیقت تھے۔ جو کم از کم اغواء اور ریپ کی وارداتوں کو روک رہے تھے ۔ جرائم پیشہ گروہوں کو نکیل ڈال رہے تھے ۔ وار لارڈز کی چیرہ دستیوں سے مقامی آبادی کو نجات دلا رہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مذہبی معاملے میں ہارڈ لائنر بھی تھے ۔ پاکستان کے پاس وسط ایشائی ریاستوں تک کی تجارتی راہداری کو محفوظ بنانے کے صرف دو ہی آپشن تھے ۔ یا تو وہ ان وار لارڈز کا ساتھ دیتا جو جرائم پیشہ تھے ۔ اور ان سے اپنے تجارتی قافلوں کی حفاظت کا ذمہ لیتا۔ اس کے بدلے میں وہ جو کچھ چاہیں کرتے پھریں ۔ بھلے فرعون ہی کیوں نہ بن جائیں۔

دوسری طرف یہ اسلامی ہارڈ لائنرز تھے ۔ جو بچیوں کا ریپ کرنے کی بجائے ان پر برقعے ڈال رہے تھے ۔ بچیوں کا ریپ کرنا زیادہ بڑا جرم ہے اور اسے سکول سے نکال دینا چھوٹا جرم ۔ اس گروہ کی تشکیل میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا بلکل فضول اور لغو بات ہے ۔

تم کرو تو پنے ہم کریں تو پاپ

جہاں تک موجودہ صورت حال کا تعلق ہے تو پاکستان اس میں بھی بے قصور ہے یہ منصوبہ بھی امریکی منصوبہ سازوں کا ہے ۔ امریکہ نے خود مذاکرات کیئے جاتے ہوئے انہیں اسلحہ بھی فراہم کیا ۔ پاکستان کے حصے میں محض بدنامی ہی آئی ۔ امریکی انخلاء مکمل ہونے کے آخری روز سی آئی اے کے سربراہ کابل میں تالب قیادت سے ملاقات کر رہے تھے ۔ مگر الزام اس سے ایک ہفتہ بعد جانے والے آئی ایس آئی چیف پر ہی لگایا گیا۔

 

امریکہ سمیت دنیا کے اہم ممالک کے ذمہ داروں کی طالبان حکام سے ملاقاتیں ہوتی رہیں لیکن صرف آئی ایس آئی چیف کی ملاقات پر تنقید کا مطلب یہی ہے دنیا کو ملاقاتوں پر نہیں بلکہ اصل مسئلہ پاکستان سے ہے

یہاں اس حقیقت کو فراموش نہ کیا جائے کہ صرف پاکستان کے ہی ان سے روابط نہیں بلکہ قطر سے چین تک اور بھی کئی دیگر ممالک ان سے روابط قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ کیوں کہ وہ افغانستان کی زندہ حقیقت ہیں ۔ صرف پاکستان کے روابط اگر کسی کو آنکھوں میں کھٹکتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے مسئلہ پاکستان سے ہے مداخلت سے نہیں ۔

جب وہاں کے سارے کرتا دھرتا بھاگ گئے تو پاکستان اب کس سے رابطہ کرتا؟ وہاں سے نکلنے والوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیئے اور کس نے اشرف غنی صاحب کے پاس ابو ظہبی میں اپنا سفیر بھیجا ؟ یا کسی نے جا کر اشرف غنی صاحب کو حوصلہ دیا ؟

سب نے کابل میں موجود قیادت سے رابطے کیئے اور اپنے تحفظات دور کیئے ۔ پاکستان کے ساتھ افغانستان کی اڑھائی ہزار میل کی سرحد تھی جسے میزائلوں اور ڈالروں کے زور پر لائی گئی جمہوری افغان حکومت نے پاکستان دشمنوں کے حوالے کیئے رکھا ، انڈیا بیس سال پاکستان کے مغرب میں بیٹھ کر بھی اودھم مچاتا رہا ۔ مشرق میں تو وہ چوہتر سالہ سازشوں اور بدمعاشیوں سے بھرپور تاریخ رکھتا ہی تھا۔

پاکستان پر افغانستان کی صورت حال کا الزام صرف اس حد تک درست ہے کہ جنرل مشرف نے چوں چراں کیئے بغیر امریکہ کا ساتھ دیا ۔ امریکہ کا ساتھ دینے کے علاوہ پاکستان کا کوئی قصور نہیں ۔ اس سارے قضیئے کی اصلی ہیڈن ٹروتھ یہ ہے کہ امریکہ نے ڈرا دھمکا کر پاکستان کو اپنے آگے لگا رکھا تھا ۔ کسی قومی پالیسی یا جمہوری قرارداد کے ذریعے پاکستان امریکا کا اتحادی نہیں بنا تھا ۔یہ کام پارلیمان نے نہیں کیا تھا ۔

امریکہ کا اتحادی جنرل مشرف تھا پاکستان نہیں

یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ جنرل مشرف امریکہ کے اتحادی بنے تھے پاکستان نہیں ۔ افغانستان پر حملہ ہوتے ہی تمام قومی قیادت کو نظر بند کر دیا گیا ۔ اس جنگ یا وار آن ٹیرر کے خلاف بات کرنا جرم کے زمرے میں داخل کر دیا گیا ۔ یہ وار آن ٹیرر نہیں تھی بلکہ وار آف ٹیرر تھی ۔ امریکی آمد کے فوراً بعد ہی جنرل ملک بھر میں سخت کریک ڈائون کر کے امریکا کی ناراضگی سے خود کو بچائے رکھا۔ یہ جنرل مشرف کے لیئے سروائیول کی جنگ تھی۔ امریکی دہشت نے جنرل مشرف کو لٹا کر اپنا کھیل تو کھیل لیا مگر اس کے نتیجے میں اگلی دو دہائیوں تک پاکستان علاقے میدان جنگ بنے رہے ۔

پاکستان اس مرتبہ امریکہ کے سامنے کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہے ۔ آج کا پاکستان جنرل مشرف کے دور سے زیادہ بہتر پوزیشن پر ہے ۔ المیہ مگر یہ ہے کہ پاکستان دشمنی میں اندھے ہونے والے یہ نہیں سمجھتے ۔
رہی سہی کسر سوشل میڈیا پر بندشوں نے پوری کر دی۔

مغرب آج بھی اپنی مرضی کے مطابق حقائق آپ تک پہنچانے کی اجازت دے رہا ہے ۔ آپ پاکستان کو جی بھر کر گالیاں دینے میں آزاد ہیں لیکن افغانستان کی زمینی حقیقت کا نام لینا یا ان کے بارے میں لکھنا آپ کی زبان بندی پر منتج ہوتا ہے۔

انسانی حقوق کے دوغلے بیانیئے

اب افغانستان کی نئی حکومت کا بھی چہرہ سامنے آ چکا ہے مگر اس چہرے کو ابھی تک کسی دوسرے ملک نے تسلیم بھی نہیں کیا۔ شائد ان ہارڈ لائنرز سے وسیع البنیاد حکومت کا مطالبہ پورا کروانے تک انہیں تسلیم بھی نہ کیا جائے ۔

جہاں تک انسانی حقوق کا مسئلہ ہے تو ان کی کسی ریاست کے سامنے کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ امریکہ جب سر عام ہسپتالوں اور عام شہریوں پر بم مار کر قتل عام کرتا تھا تب ساری دنیا اس کے ساتھ تھی تو کسی نے انسانی حقوق کا نعرہ نہیں لگایا اب کون لگائے گا ؟

کیا انسان نامی مخلوق کا کوئی ایسا حق ہے جسے چین تسلیم کرتا ہو؟ یا چین یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ داڑھیاں ناپنا چھوڑ دو ، یا یہ کہ برقعے والی ریاست نہیں چلے گی؟

یہ حقوق محض بہانہ ہوتے ہیں ۔کشمیر اور آسام سمیت ہندوستان بھر میں اقلیتوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہو رہا اور انڈیا کو ساتھ ہی ساتھ کابل یا قندھار کی اقلیتوں کا غم کھائے جا رہا ہے ۔ یہ دو رنگیاں اب زیادہ دیر نہیں چلیں گی ۔

Translate »