آزادی ڈیسک


طالبان نے افغانستان کی 6 میں سے پانچ بارڈر کراسنگ پر قبضہ کرلیا ہے ،جن میں پاکستان ،چین ،تاجکستان اور ترکمانستان کی سرحدی کراسنگ شامل ہیں

جبکہ ایران کیساتھ افغانستان کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ اور اہم تجارتی ضلعی مرکز اسلام قلعہ کا بھی کنٹرول طالبان سنبھال چکے ہیں

طالبان کے سوشل میڈیا اکائونٹس پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں طالبان جنگجوئوں کو ایران کے سرحدی محافظوں کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے

جبکہ ایک اور ویڈیو میں سرحد پر تعینات افغان فوجی ایران کی طرف فرار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ،جبکہ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان حکام نے بھی سرحدی علاقے کے چھن جانے کی تصدیق کی ہے

روس میں موجود طالبان وفد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران افغانستان کے 85 فیصد حصہ پر قبضہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

طالبان کے چیف مذاکرات کار سہیل شاہین نے ضلعی مراکز پر قبضہ نہ کرنے کو امریکہ کیساتھ معاہدہ قرار دیا ہے ،جبکہ طالبان تمام بڑے شہری مراکز کو چھوڑ کر فی الحال سرحدی گزرگاہوں اور نواحی علاقوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں


یہ بھی پڑھیں

  1. الوداع …….افغانستان کو فوج سے فتح نہیں‌کرسکتے ،جوبائیڈن
  2. 24 گھنٹوں کے دوران مزید 13 اضلاع پر طالبان کا قبضہ
  3. امریکہ نائن الیون سے پہلے طالبان حکومت کو ختم کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا ،رپورٹ
  4. بھارت نے افغان طالبان قیادت کیساتھ روابط بڑھانے کی کوششیں تیز کردیں

طالبان میڈیا کے مطابق طالبان نے افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار کے کچھ علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور انہوں نے مرکزی جیل کو گھیرے میں لے رکھا ہے ،جہاں مختلف مقامات پر طالبان اور سرکاری فوجوں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں

البتہ قندھار کی سرکاری انتظامیہ نے شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ فوج اور سیکورٹی ادارے شہر کا بھرپور دفاع کرینگے ،اس لئے شہری پریشان نہ ہوں

طالبان وفد کی ماسکو آمد

روس کی سرکاری دعوت پر طالبان کا چار رکنی اعلی سطحی وفد شیخ شہاب الدین دلاور کی قیادت میں ماسکو میں موجود ہے جہاں روسی صدر کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان ضمیر کابلوف کی وفد کے ساتھ ملاقات کی، دونوں ممالک سے متعلق موضوعات، افغانستان کی موجودہ صورتحال اور امن عمل سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی

ماسکو میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کے دوران طالبان وفد نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو دوہفتوں میں پورے افغانستان پر قبضہ کرسکتے ہیں

جوبائیڈن کی رائے ذاتی ہے ،پورے ملک پر دوہفتوں میں قبضہ کرسکتے ہیں ،دلاور

انہوں نے امریکی صدر کے گذشتہ روز کے اس بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا جس میں امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ انہیں افغان فوج کی صلاحیتوں پر یقین ہے کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کرسکتے ہیں


طالبان  غلطی کررہے ہیں ،پاکستان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں ،افغان وزیر خارجہ حنیف اتمر

دوسری جانب ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے افغان وزیر خارجہ حنیف اتمر نے پاکستان سے امید ظاہر کی ہے کہ وہ طالبان کی ظالمانہ مہم اور حمایت کو روکنے میں ہماری مدد کرے گا۔

 

افغان وزیر خارجہ حنیف اتمر کا کہنا تھا کہ القاعدہ، ٹی ٹی پی اور دیگر گروپ مل کر افغان حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں، افغان حکام طالبان، القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے درمیان تعلق کو روزانہ کی بنیاد پر دیکھتے ہیں، یہ تعلق بالکل موجود ہے، اس وقت یہ عناصر طالبان کے ساتھ مل کر ہماری حکومت اور عوام کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

 

ہمیں پاکستان سے سب سےزیادہ امیدیں ہیں، ہم نے پاکستان کے امن عمل کی حمایت میں پہلے بھی اقدامات کی تعریف کی ہے تصویر حنیف اتمر ٹوئٹر

حنیف اتمر کا کہنا تھا کہ ہم نے غیر ملکی جنگجوؤں کو تین گروپوں میں تقسیم کر رکھا ہے، ایک وہ جن کا عالمی ایجنڈا ہے جیسے القاعدہ اور داعش، القاعدہ اور داعش اس خطے میں موجود رہے

جہاں افغانستان اور پاکستان موجود ہیں، صاف صاف کہوں ہمیں پتہ ہے پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ کے رہنما کہاں قتل اور گرفتار ہوئے، القاعدہ اور داعش کی عالمی ترجیحات ہیں۔

افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ القاعدہ اور داعش کے بعد علاقائی کردار ہیں، ٹی ٹی پی، لشکر طیبہ، جیش محمد، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، آئی ٹی آئی ایم، انصار اللہ اور جنداللہ بھی ان میں شامل ہیں، ان سے صرف افغانستان اور پاکستان کو نہیں بلکہ بھارت، چین، روس اور مشرق وسطیٰ سمیت پورے خطے کو خطرہ ہے۔

کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ،سب برابر ہیں ،اتمر

انہوں نے کہا کہ ہم اسی لیے علاقائی تعاون کی بات کرتے ہیں کہ کوئی اچھا برا دہشتگرد نہیں سب ایک ہیں، افغانستان اور طالبان کا امن یہ یقینی بنائے گا کہ افغانستان ایسے عناصر کے لیے جنت نہیں ہے۔

پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے افغان وزیر خارجہ حنیف اتمر کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان سے سب سےزیادہ امیدیں ہیں، ہم نے پاکستان کے امن عمل کی حمایت میں پہلے بھی اقدامات کی تعریف کی ہے۔

حنیف اتمر کا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ مستحکم باہمی تعلقات کا خواہاں ہے، ہماری پاکستان سے توقع ہے کہ وہ طالبان کی ظالمانہ مہم، سپلائی اور سپورٹ کو روکنے میں ہماری مدد کرے، پاکستان انہیں مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد دے، ہم امید کر رہے ہیں کہ ان امور پر ٹھوس پیشرفت ہو گی۔

طالبان نے دنیا کو دھوکہ دیا

امریکا کی جانب سے دھوکہ دینے سے متعلق سوال پر افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا امریکا نے طالبان کے ساتھ نیک نیتی سے امن معاہدہ کیا، لیکن طالبان نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور پوری دنیا کو دھوکا دیا۔

افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طالبان بڑی غلطی کر رہے ہیں، ہم سب نے ان کی طرف امن کے لیے ہاتھ بڑھایا، ہم نے انہیں کہا کہ وہ دوحہ امن معاہدے پر عمل کریں، ہم نے غیر ملکی افواج کے انخلا اور قیدیوں کے حوالے سے اپنا کام کیا۔

Translate »