Spread the love

سیدعتیق الرحمان


جمہوریت کے بین الاقوامی ایکسپورٹر کی افغانستان سے واپسی پر کچھ لوگوں کے دل میں اچانک سے افغانستان کی مائوں اور بہنوں کا دکھ جاگ پڑا ہے ۔

حالانکہ ان کا ماضی گواہ ہے کہ انہیں تب ان افغان مائوں کا دکھ نہیں ہوا جب ڈیزی کٹر بموں سے افغانستان میں کارپٹ بمباری کی جا رہی تھی ۔ یہ تو ابھی کل کی بات ہے جب یہی لوگ افغانستان کی مائوں کی کوکھیں اجاڑنے کے لیئے جمہوریت کے بین الاقوامی ایکسپورٹر کو بمباری کی دعوت و ترغیب دے رہے تھے ۔

افغانستان کی مائیں گزشتہ چالیس سال سے اسی دکھ کرب اور مصائب میں ہیں جو کچھ لوگوں کو آج محسوس ہوا۔ افغانستان کی مائوں کا المیہ یہ ہے کہ انہیں ہمیشہ محسن بن کر ہمدردیاں جتانے والوں نے تباہ و برباد کیا ۔

کیا کوئی یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ افغانیوں کا قصور کیا ہے جو چالیس سال پہلے روسیوں کا نشانہ بنے ۔ اس سے دس سال بعد وار لارڈز کا نشانہ بنے ۔ مزید پانچ سال بعد طالبان نامی عفریت کا نشانہ بنے ۔ مذید پانچ سال گزرے تو امریکہ اور نیٹو کا ہدف قرار پائے اور اب ایک اور خانہ جنگی کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا ہے ۔

اس سارے قضیئے میں فائدہ صرف اسلحے کے تاجروں اور ان کے آلہ کاروں کو ہوا ۔ باقی سب خسارے میں رہے ۔


یہ بھی پڑھیں

  1. انسانی حقوق کا چھاج،امریکہ،چین اور پاکستان
  2. داستان اردو،بزبان اردو
  3. قرآن ہماری جان لیکن عمل سے دل پریشان
  4. آئی ایم ایف سے پاکستان کا رشتہ کیا ؟؟؟

آج یار لوگ طالبان کے خلاف یہ بات بطور دلیل لاتے ہیں کہ وہ افغانستان کے نمائندہ نہیں ۔ کیوں کہ وہ بندوق کے زور پر آئے ہیں ۔ کوئی ان سے پوچھے کہ جمہوریت کون سی از خود آئی ۔ یہ بھی توپوں اور میزائلوں کی طاقت سے لائی گئی ۔

سیدھی بات ہے کہ جمہوریت ہو یا طالبانیت ریاست کی بنیاد ہی عسکریت اور جبر ہے۔ عسکریت کے بنا نہ تو ریاست بن سکتی ہے نہ ہی قائم رہ سکتی ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ عسکریتی گروہوں نے ہمیشہ مائوں کی کوکھ اجاڑی بھی اور بسائی بھی ۔

افغانستان کی مائوں کے دکھ کی تشہیر کر کے اپنا لچ تلنے والے ان نام نہاد ہمدردوں سے گزارش ہے کہ یہ دو رنگی چھوڑ دیجیئے کہ مائوں کو صرف طالبان سے خطرہ ہے ۔ یہ مائیں امریکی اور نیٹو فورسز کے ہاتھوں کہیں بڑے زخم سہہ چکی ہیں ۔

عراق کی ابو غریب جیل سے بگرام اور گوانتانامو بے تک کے قید خانوں میں ظلم اور جبر کا شکار بنائے جانے والے بھی کسی ماں کے بیٹے تھے اور امریکی بمباری اور ڈرون حملوں میں قتل ہونے بھی مائوں سے ہی پیدا ہوئے تھے ۔ پتھر سے نکل کر نہیں آئے تھے ۔

ان مظلوم مائوں کا درد کسی کو محسوس نہ ہوا بلکہ انہیں مارنے والوں کی جنگی مہارتیں اور جدید تکنیکس موضوع سخن رہیں اور آج جب وہ دوائے دل بیچنے والے اپنی دوکان بڑھا رہے ہیں تو انہیں ماں یاد آنے لگی ہے ۔

ان کا مسئلہ دیگر ہے اور وہ یہ ہے کہ انہیں مزید ایسی مائیں درکار ہیں جن کے نور نظر اس نئی جنگ کا ایندھن بن سکیں ۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ گزشتہ ستر سالہ تاریخ میں پرائیویٹ عسکری گروہ ہر جگہ کسی انجانی طاقت کے ہاتھوں میں کھیلنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ جس نے اسے مسلح کیا اس کے مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں وہ جو مسلح ہوا اس کے اور ، جس نے مسلح کرنے والے کو کمک پہنچائی اس کے اور اور اس پر مستزاد یہ کہ ان سب کے مفادات اور مقاصد میں بعد المشرقین ہوتا ہے۔

Ahmad Ramday Twitter

عسکریت پسندی کے نتیجے میں اپنے والدین ، بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب کو داغ مفارقت دینے والے جس انقلابی طلسم کا شکار ہوتے ہیں وہ ان کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے ۔ جس کا کام اسی کو ساجھے ۔

اس استثناء کے ساتھ کہ ایسی کوئی مثال موجود ہو جہاں عسکریت کے جملہ فریقین کے مفادات و مقاصد یکساں ہوں تقریباً ہر جگہ صورت حال اس کے برعکس رہی

طالبان کی فتوحات کے میڈیائی سیلاب پر بغلیں بجانے والے یا افغان فورسز کی طرف سے میدان مارنے کے دعوئوں پر خوشیوں کے شادیانے بجانے والے اگر خانہ جنگی کے شکار ملکوں کا احوال ملاحظہ کر لیں تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ ایسے انقلابات کی قیمت کیا ہوتی ہے ۔

افغانستان میں ایکسپورٹڈ جمہوریت رہے یا طالبان کا اقتدار اس سے شائد ان مائوں کے مصائب میں کمی کا امکان نہیں کیوں کہ ہر راستہ خون سے پر ہے ۔ یوں بھی نہیں کہ پہلے خون نہیں بہا ۔ پچھلے چالیس سالوں سے آتش و آہن کی برسات نے افغانوں کو جنگ کا اس قدر عادی بنا دیا گیا ہے کہ اب وہاں امن کی آشا دم توڑ چکی ہے ۔

آگاہ رہیئے کہ وہ سبھی افغانستان کے مجرم ہیں وہ بھی جو پرائیویٹ جہادی کمپنیاں کھول کر افغانستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہیں وہ بھی جو پرائیویٹ جہادی گروہوں کے مقابلے کے لیئے قوم پرستانہ معجون بیچنے نکل کھڑے ہوں ۔ عسکریت کا ہر پہلو ایک ماں ، بیٹی یا بہن کو صرف آہیں اور درد فرقت ہی دے گا

افغانستان کو افغانوں کے حال پر چھوڑ دیں ۔ اسی میں بھلائی ہے ۔ وہ خود لڑیں جھگڑیں یا مل بیٹھ کر ملک چلائیں ان کے معاملات میں بیرونی مداخلت اس وقت تک موقوف کر دی جائے جب تک صورت حال یکطرفہ نہ ہو جائے ۔
۔

Translate »