Spread the love

سیف اللہ تنولی


افغانستان میں اب کیا ہوگا یہ موجودہ وقت کا بڑا سوال ہے لیکن اس کا جواب کافی آسان ہے کیوں کہ اب تک کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کابل حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں ،گھنٹوں کے حساب سے ایک کے بعد ایک شہر طالبان کے ہاتھوں میں جارہا اور جس افغان نیشنل فورس کا چرچا تھا وہ خس و خاشاک کی طرح طالبان کے بڑھتے سیل رواں کے سامنے بے بس اور کم ہمت دکھائی دے رہی ہے

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پہلے کابل انتظامیہ کے عملی اور بعدازاں زبانی پشت پناہی امریکہ نے بھی اپنے شہریوں اور سفارتکاروں کو بھی افغانستان سے نکالنے کا عمل شروع کردیا ہے ،یوں اشرف غنی حکومت کی آخری امید بھی دم توڑ چکی ہے

اگرچہ دیہی اور چھوٹے شہری علاقوں تک طالبان کا اثر ونفوذ پہلے سے موجود تھا ،لیکن 6 اگست کے بعد سے اب تک ہر روز صبح سے شام کے درمیان طالبان کے زیر کنٹرول صوبوں کی گنتی نہایت تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے افغان ملی اردو کی تیز رفتار پسپائی نے سارے منظر پر جمی گرد کو صاف کردیا ہے

طالبان چاہتے کیا ہیں

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ 2001 میں اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد طالبان نے اپنی امارت اسلامیہ کے دوربارہ قیام کے دعوے اور جدوجہد سے کبھی انحراف نہیں کیاجس کی بنیاد انہوں نے امیر ملامحمد عمر کی قیادت میں رکھی تھی

اس دوران طالبان پر کٹھن ترین مراحل بھی آئے ،لیکن ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہ آئی ۔اب بھی وہ جن شہروں اور صوبوں پر قبضہ کررہے ہیں وہاں وہ امارت اسلامیہ افغانستان کے پرچم نصب کرتے اور روزمرہ معاملات زندگی کو شرعی قوانین کے مطابق چلانے کے اصول پر کاربند ہیں

اس وقت تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے طالبان کے حوالے سے دنیا کے بہت سے خدشات غلط ثابت ہو رہے ہیں ۔دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں جو چیز سب سے زیادہ موضوع بحث تھی وہ طالبان کی واپسی کی صورت میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور خونریزی کا خدشہ تھا ۔

لیکن جس انداز میں سرکاری فوج نے پسپائی اختیار کی اس کے بعد طالبان کے پاس بلاجواز قتل وخون ریزی کو جاری رکھنے کا کوئی شرعی و اخلاقی جواز موجود نہ تھا ،لہٰذا اب تک انہوں نے جن شہروں پر قبضہ کیا وہاں سے کوئی ایسی خبر سامنے نہیں آئی جس سے اندازہ ہو کہ وہاں کسی کا ناحق خون بہایا گیا ہے ،بلکہ ایسی ویڈیوز اور تصاویر دیکھنے کو مل رہی ہیں جن میں عام شہریوں کو طالبان کا استقبال کرتے اور انہیں خوش آمدید کہتے دیکھا جاسکتا ہے

سب سے بڑھ کر جو حیران کن مناظر ہیں وہ ہتھیار ڈالنے والے اردو ملی کے سپاہیوں کے ساتھ طالبان کا حسن سلوک ہے ،جنہیں ہتھیار چھوڑنے کے بعد باعزت طریقے سے ان کے گھروں کو روانہ کردیا گیا ۔اس سے یہ خدشہ غلط ثابت ہورہا ہے کہ طالبان کے بارے میں وحشی پن اور ظلم کا جو تاثر دنیا کے ذہن میں بٹھایا گیا تھا وہ بتدریج زائل ہورہا ہے


یہ بھی پڑھیں 

شاید طالبان کی یہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے واضح طور پر غالب ہونے کے باوجود بھی تشدد اور جبر سے ممکنہ حدتک اجتناب برتا ،جس کے نتیجے میں حوصلہ ہاری ملی اردو کے سپاہی جوق در جوق ہتھیار پھینک کر طالبان کی پناہ میں داخل ہوگئے

اگر کسی ایک مقام پر بھی طالبان کی جانب سے کسی کو ناحق گزند پہنچایا جاتا تو ملی اردو کسی صورت اتنی آسانی سے ہتھیارسپرد نہ کرتی بلکہ دونوں صورتوں میں اگر موت یقینی ہوتی تو وہ یقیناً لڑ کر جان دینے کو ترجیح دیتے ،لیکن جب طالبان نے انہیں زندگی کی راہ دکھائی تو غالب اکثریت نے موت کو گلے لگانے کے بجائے زندگی جینے کو ترجیح دی یوں بڑی خونریزی کا ایک بڑا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ۔

وار لارڈ ز کا غلغلہ اور زمینی حقائق

افغانستان کی ماضی کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسرا بڑا خدشہ ماضی کے کئی نامی گرامی وارلارڈز کی میدان میں موجودگی کی صورت میں خون ریزی تھا ۔لیکن اب تک کی صورتحال میں وارلارڈز بھی بے بس نظر آرہے ہیں اور بظاہر طالبان تمام کھیل اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں اور وہی فیصلہ کن قوت کے طور پر سامنے آرہے ہیں

افغان جہاد کے دوران عبدالرشید دوستم ،گلبدین حکمت یار ،مولوی یونس خالص ،عبدالرسول سیاف ،جلال الدین حقانی ،احمد شاہ مسعود ،کمانڈر حاجی اسماعیل ہراتی ،کمانڈر عبدالحق پنجشیری جیسے نمایاں نام تھے ،جنہوں نے کبھی باہمی اور کبھی ایک دوسرے کے ساتھ افغان جہاد کے خاتمے کے بعد تقریباً سولہ سال تک افغانستان کو میدان کارزار بنائے رکھا ۔

تاوقتیکہ 1996 میں قندھار سے طالبان نے اپنے نئے دور کا آغاز کیا ۔

اور اگلے پانچ سالوں کے دوران ان میں کئی وارلارڈز یا تو طالبان کے ہمنوا بن گئے یا چند ایک کے سوا مارے گئے ۔البتہ پرانے معروف ناموں میں سےہرات کے کمانڈر حاجی اسماعیل اور دشت لیلٰی کے قتل عام سے شہرت پانے والے عبدالرشید دوستم کی حال ہی ترکی سے واپسی کے بعد طالبان کے ساتھ ٹکرائو اور خونریزی کے خطرات موجود تھے

تادم تحریر کمانڈر اسماعیل طالبان کے ہاتھوں گرفتار ہو کر اپنے طنطنہ کھو چکے ہیں ،جبکہ عبدالرشید دوستم بھی ابھی تک کسی خاص اور موثر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام دیتے ہیں جس سے امکان یہ دکھائی دے رہا ہے کہ ملی اردو اور کمانڈر اسماعیل کی طرح وہ بھی شاید راہ فرار کو ترجیح دیں

حالیہ عرصہ کے دوران یہ حقیقت واضح رہی ہے کہ طالبان ماضی کے برعکس جنگ کے بجائے صلح و آشتی کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔کابل حکومت کے ساتھ بھی ان کا ماضی اور حال دونوں میں ادوار میں ایک ہی اختلاف رہا کہ وہ امریکی اثر سے نکل جائے جس کے خلاف انہوں نے گذشتہ 20 سال سے ا نتھک مسلح جدوجہد کی اور بے پناہ جانی و مالی نقصانات کا سامنا کیا

اور پھر دوعشروں کی طویل اور خونریز جدوجہد کے بعد اسے واپسی کیلئے اس ڈیل پر آمادہ کیا کہ وہ انخلاء کے دوران اس کے شہریوں اور مفادات پر حملے نہیں کرینگے

گذشتہ آٹھ دنوں کے دوران طالبان کی حیران کن پیش قدمی اور واپسی سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب وہ کسی بھی وقت کابل انتظامیہ کو غیرمشروط طور پر تسلیم ہوجانے کا مطالبہ کرسکتے ہیں اور شاید کابل انتظامیہ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ ہو

افغان نیشنل آرمی یا افغان ملی اردو کا فسانہ جو اب کتابوں میں ملے گا

افغانستان کی ساری کہانی میں سب سے دلچسپ فسانہ افغان ملی اردو کا ہوگا ،جو شاید آنے والے زمانوں میں جنگی نصابوں کا حصہ ہوگا ،کہ کس طرح 20 سال کی محنت اور اربوں ڈالر کے خرچ اور جدید جنگی مشینری سے لیس ساڑھے تین لاکھ فوج امریکی پشت پناہی ختم ہوتے ہی چند مہینوں میں ہی تنکوں کی طرح بکھر گئی ۔

اگرچہ اس شکست و ریخت کی ایک بڑی وجہ تو یہ بھی ہے کہ افغان فوج خود کو ذہنی طور پر امریکہ کی تنخواہ دار سمجھ رہی تھی ،جونہی راشن پانی بند ہوا وہ ہتھیار چھوڑ کر بیٹھ گئےدوسرا یہ کہ کابل انتظامیہ میں جتنے بھی لوگ لا کر بٹھائے گئے وہ

بابربہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

کی عملی تفسیر بنے انتظامی معاملات کے بجائے مال بنائو مہم میں مصروف رہے ،حکومتی صفوں میں مال کی بنیاد پر اتفاق قائم رہا ،اور جونہی مال کے سوتے خشک ہونے لگے وہ ایک دوسرے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگے

فصیل شہر سے باہر طالبان کے دھول اڑاتے لشکروں کی جانب ان کی توجہ تک نہ گئی ،تاوقتیکہ طالبان نے دیہاتوں سے نکل کر شہروں کے دروازے کھٹکھٹانا شروع کردیئے ،اندریں حلقوں کے پاس سازو سامان تو موجود تھا لیکن لڑنے کا جذبہ ندارد ۔

سو نتیجہ وہ نکلا جس کا دنیا کے اکثر مبصرین کو اندازہ تک نہ تھا جو اگلے چند سالوں کے دوران افغان سرزمین کو ایک بار پھر خاک و خون میں تڑپتا ہوا دیکھنے کی پیشن گوئیاں کررہے تھے ،لیکن اب تک کے نتائج سے سارے اندازے غلط ثابت ہورہے ہیں

کیوں کہ ذرائع ابلاغ کے میڈیا رومز اور میدان میں موجود صحافی و رپورٹر بھی پریشان ہیں ،جن کی پہلی خبر ابھی شائع نہیں ہوتی کہ اگلے لمحے کا منظر ان کی پہلی خبر کوفرسودہ کر چکا ہوتا ہے ،جہاں گھنٹوں کے حساب سے میلوں کے علاقے طالبان کے سامنے سرنگوں ہورہے ہیں

آنے والا وقت کیا دکھائے گا؟

آثار تو یہی ہیں کہ ماسوائے کابل کے طالبان ملک کے کم و بیش تمام حصوں پر اگلے چند روز میں قبضہ کرلیں گے ۔اب کابل انتظامیہ کس حد تک یا کب تک طالبان کو کابل سے باہر رکھ سکتی ہے ۔اس بات کا انحصار کابل انتظامیہ کی قوت مزاحمت ،ان کی بین الاقوامی پشت پناہی اور طالبان کی حکمت عملی پر ہے


یہ بھی پڑھیں 

اب تک ملک کے زیادہ ترصوبوں پر طالبان نے ممکنہ حد تک تصادم و خونریزی سے بچتے ہوئے صلح و مذاکرات کے ذریعے قبضہ حاصل کیا ہے ۔ممکن ہے کابل پر قبضہ کیلئے وہ زیادہ عجلت کا مظاہرہ نہ کریں اور وہ کابل میں امریکی آشیرواد سے بیٹھے اہلکاروں کے حوصلوں اور جذبوں کو توڑنے کیلئے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کریں ۔

کیوں کہ کابل حکومت کی صفوں میں جس تیزی سے ردوبدل ہورہا ہے ،یا کابل حکومت کے ترجمان اور اعلیٰ عہدیداران جس طرح کھوکھلے بیانات کے ذریعے خود کو تسلی دینے کی کوشش کررہے ہیں آثار تو یہی ہیں کہ کابل انتظامیہ خود اعتمادی کھو بیٹھی ہے ۔امکان یہی ہے کہ اس کا بچھا کھچا حوصلہ کسی وقت بھی زمین بوس ہوجائے اور طالبان فاتحانہ شہرنو کی گلیوں میں گشت کرتے نظر آئیں

بیرونی مداخلت کا امکان کس حد تک ہے ؟

افغانستان میں سب سے بڑا بیرونی مداخلت کار یعنی امریکہ اور اس کے اتحاد 20 سال تک لاکھوں ٹن بارود اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد ناکام و نامراد اپنے اپنے ٹھکانوں کو لوٹ جانے کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔اور وہ افغانستان کے کمبل سے ہر صورت جان چھڑانے کی کوشش میں مصروف ہیں

ماضی میں سوویت انخلاء کے بعد بہت سی قوتیں افغان سرزمین پر اپنے مفادات اور پسندیدہ افراد کی پشت پناہی کی لئے کود پڑی تھیں ۔جن میں پاکستان ،بھارت ،ایران وغیرہ زیادہ اہم تھے ،جنکے مفادات تو ظاہر ہے اپنے اپنے تھے لیکن اس کی بھینٹ افغان عوام چڑھے ،جو اگلے پندرہ سال تک خاک و خون کا سامان بنتے رہے

1996 سے 2001 تک طالبان بڑی قوت کے طور پر سامنے آئے لیکن شمالی اتحاد کی صورت میں انہیں تمام عرصہ کے دوران مزاحمت کا سامنا رہا اور خونریزی نہ رک سکی ۔کیوں کہ شمالی اتحاد کو امریکہ ،بھارت ،ایران کی کھلی یا درپردہ حمایت حاصل رہی

اس کے مقابلے میں اپنے دیرینہ مراسم کی بنا پر پاکستان فطری طور پر طالبان اور ان کے حلیف بارسوخ سرداروں کو پشتی بان ٹھہرا ۔

 

تاوقتیکہ 2001 میں امریکہ بذات خود میدان میں کود پڑا ،اور اگلے بیس سال تک آتش و آہن کا ایک نیادور شروع ہوا ۔جس کا سلسلہ دوعشروں کے بعد جا کر کہیں تھم پایا ۔ان حالات میں یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ  اب ایسی کونسی قوت ہے جو امریکی انخلاء کے بعد عملی طور پر افغانستان مداخلت کرسکتی ہے ؟

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو روزاول سے پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی اور معاونت کا الزام عائد کیا جاتا رہا ،عملی طور پر پاکستان افغانستان میں سب سے بڑا سٹیک ہولڈر ہے ،طالبان کے آنے کی صورت میں پاکستانی مفادات کو کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا ،اس لحاظ سے پاکستان کی کوئی ایکٹو مداخلت کا سوال بے معنی ہے ۔

دوسرے نمبر پرایران ہے ،جس کے ساتھ طالبان نے ابتدائی مراحل میں ہی معاملات کو بہتر بنانے پر توجہ دی ،اور اپنے عمل سے اقلیتوں کے حوالے اپنے طرز عمل میں تبدیلی کو ثابت کیا ۔اس لئے ایرانی مداخلت کا بھی امکان کم یا نہایت محدود ہے ۔

تیسرے نمبر پر چین ہے تو چین کی پالیسی صرف تجارتی و معاشی حد تک دکھائی دیتی ہے اس لئے چین کی زیادہ تر ترجیح کسی ایک ایسی قوت کی موجودگی ضروری ہے جو ان کے معاشی مفادات کا تحفظ یقینی بنا سکے

اس لئے یہ ممکن نہیں کہ چین کسی ایک غالب قوت کے بجائے کسی دوسرے فریق پر سرمایہ کاری کرے جس کا طالبان پر غالب آنے کا امکان ہو

ماضی کا ایک اور اہم فریق بھارت ہے جس کی اگرچہ افغانستان کے ساتھ براہ راست تو کوئی زمینی سرحد موجود نہیں لیکن ماضی قریب میں بھارت نے پاکستان کے بغض میں امریکی و اتحادی ایما پر قائم ہونے والی کٹھ پتلی حکومت پر بے تحاشا سرمایہ کاری کی ۔

بھارتی مفادات کو زبردست دھچکا

طالبان کی آمد سے بھارتی مفادات کو زبردست زک پہنچی ہے جس نے پاکستان کو افغان منظر نامے سے باہر رکھنے کیلئے بھاری مقدار میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی ،لیکن فی الوقت اس کا اپنا ظاہری کردار ختم ہو کر رہ گیا ہے ۔

ماضی میں بھارت نے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں بدامنی کے ذمہ دار عناصر کو جس طرح شہہ دی ہے اس میں امکان یہی ہے کہ بھارت کسی نہ کسی صورت مداخلت کی کوشش ضرور کریگا ۔

لیکن اس کا انحصار بھی خود طالبان کے طرز عمل پر ہے اگر تو وہ دوسرے ممالک کے معاملات سے خود کو لاتعلق رکھنے کے وعدے پر قائم رہتے ہیں تو شاید بھارت کو ان سے زیادہ سروکار نہ رہے کیوں کہ افغانستان میں طالبان نفوذ کی موجودگی میں بھارت کو کشمیر کے حوالے سے خدشات ضرور موجود ہیں

لیکن اگر طالبان بھارتی خدشات کو دور کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ افغانستان میں کی جانے والی اپنی سرمایہ کاری کو بھول جائے

Translate »