Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:10 Minute, 12 Second

    راحت ملک


یکم جولائی 2021کی سہ پہر قومی اسمبلی کے ہال میں پارلیمان کی دفاعی کمیٹیوں کے معزز اراکین قائد حزب اختلاف جناب شہباز شریف پیپلزپارٹی کے قائد جناب بلاول بھٹو سینیٹ میں نیشنل پارٹی کے لیڈر جناب طاہر بزنجوصوبائی وزراءاعلیٰ،وفاقی وزراءاور دیگر اراکین پارلیمان کو ملکی دفاع کے ادارے کے سربراہ ودیگر متعلقہ اہلکاروں نے افغانستان کے ابھرتے بحران ،کشمیر تنازعہ کی تازہ صورتحال پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی مجموعی اسٹریٹیجک وسلامتی کی صورتحال کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

2جولائی کے اخبارات نے اس کے متعلق معنی خیز سرخی لگائی ہے۔

”حکومت اپوزیشن اور فوج ایک صفحے پر“

بریفنگ کے متعلق صحافتی ذرائع سے اخبارات نے اس ان کیمرہ(بند کمرے)کی بریفنگ میں زیر بحث موضوہات کا کھوج لگا نے کی پیشہ وارانہ کوشش کی جس سے بند کمرے میں ہونے والی گفتگو کی کچھ اشارے کنائے سمجھنے میں مدد ملی ہے۔

حسب روایت وزیراعظم کے عہدے پر عمران خان اپنی ذہانت یا خول میں بند شخصیت ہونے کی وجہ سے قومی سلامتی سے متعلق اس اہم اجلاس میں بھی تشریف لائے تو عسکری ادارے کے دو بازو فضائیہ اور بحریہ کی قیادت بھی اجلاس میں موجود نہیں تھی۔(کم از کم کسی اخباری اطلاع سے ان کی موجودگی کا عندیہ نہیں ملا)

درپیش علاقائی صورتحال اور سیاسی تناﺅ کی موجودگی میں یہ اجلاس ایک مثبت اور خوشگوار واقعہ ہے۔پارلیمانی نظام میں ریاست کے محکمے اپنے اپنے فرائض منصبی اور کارکردگی سے متعلق مختلف کمیٹیوں کے ذریعے واقعات اپنے اقدامات اور ان کے ثمرات ومضمرات کے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہیں ۔

سابق امریکی صدر بش جونیئر افغانستان پر حملہ آور ہونے اور باراک اوباما افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاءکے لئے حتمی فیصلے کرنے سے قبل پینٹا گون ،سی آئی اے اور اپنے اپنے دور کے قومی سلامتی کے مشیروں کے اجلاس میں مطلوب اقدامات کے مختلف پہلوﺅں کا ہمہ جہت جائزہ لیتے رہے ہیں

ایسے اجلاسوں میں امریکی فوج کے کمانڈر پینٹا گون کے مجاز اہلکاراور سی آئی کے سربراہ یا دیگر افسران اپنی سیاسی قیادت کو مشاورت کی سطح پر مختلف امکانات کی جانب متوجہ کرتے رہے۔


یہ بھی پڑھیں 

  1. برقی ووٹنگ یا انتخابی عمل کیسے بدلا جائے؟ راحت ملک
  2. سی پیک کی خوشخبری اور سرینا ہوٹل دھماکہ
  3. ہائی برڈ نظام کا تسلسل اور نیا ”برڈ“۔۔۔راحت ملک
  4. نااہلیوں کا منطقی انجام ۔۔۔۔راحت ملک

جبکہ یکم جولائی کو پارلیمان ہاﺅس میں ہونے والی بریفنگ کے انداز ے سے شبہ ہوتا ہے جسے حکومت اور اراکین پارلیمان کو واقعات کی صورتگری بتانے کے ساتھ ساتھ دفاعی ادارے کی آئندہ حکمت عملی سے بھی مطلع کیا گیا ہے شاید اسی سبب سے اخبارات نے ایک صفحے والا جملہ سرخی کے ساتھ چھپایا ہے۔

پارلیمانی سیاسی قیادت ،ملکی پالیسی سازی تشکیل دینے کی آئینی مجاز اتھارٹی ہے۔پارلیمنٹ جس قسم کی پالیسی وضع کرے اس پر حکومت کے ماتحت تمام اداروں پر عمل آئینی طریقہ اور آئین کی بالادستی ہے۔

گزشتہ روز قومی سلامتی ودفاع کے امور زیر بحث تھے۔وزیرخارجہ تشریف فرما تھے مناسب ہوتا کہ محکمہ خارجہ کے افغان ،بھارت اور امریکہ چین ڈیسک کے افسران یا سیکرٹری خارجہ بھی شریک مجلس ہوتے یا بہتر ہوتا اگر مذکورہ ممالک میں تعینات ملکی سفراءکو بھی مدعو کرلیا جاتا۔

قومی مفادات جذبات کے تابع و متحمل نہیں ہوسکتے

اطلاعات کے مطابق شاید اسی وجہ سے وہ معاملات طے نہ ہوسکے جو ایجنڈے کا حصہ تھے چنانچہ 15جولائی کو دوبارہ ان کیمرہ اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوا ہے ۔باہمی مشاورت کی کمزور روایت مضبوط رہے تو ،میں سمجھتا ہوں جو عمل شروع ہوا ہے اس کی تحسین ہونی چاہیے

اسی راہ پر چلتے ہوئے مملکت پاکستان پارلیمانی جمہوری آئینی ریاست بننے کی سمیت اگلے پڑاﺅ میں داخل ہو کر اپنی مثبت روایات تشکیل دے سکے گی۔

امریکہ سے گلہ کرنا فضول ہے کہ اس نے طالبان کے ساتھ یکطرفہ طور پر معاہدہ امن کر کے افغانستان کے سیاسی منظر نامے میں افغان طالبان کی سیاسی وقعت میں پیش بہا اضافہ کر کے تاریخی غلطی کی ہے۔

اجلاس کے شرکاءکو مطلع کیا گیا کہ ”پاکستان نے افغان امن عمل میں اخلاص کے ساتھ نہایت مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔پاکستان کی بھر پور کاوشوں سے افغان دھڑوں اور متحارب گروپوں میں مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی امریکہ اور طالبان کے درمیان بھی باہمی مذاکرات ہوئے“

یقینا حقائق متذکرہ بیان کی تائید کرتے ہیں تاہم اگر معاملات کا باریک بینی کیساتھ جائزہ لیا جائے  تو اس کہانی میں ہمارے مقتدر حلقوں نے معاملات کو سمجھنے اور دور اندیشی سے کام لینے میں تساہل برتا ہے۔

چنانچہ اب افغانستان کی صورتحال جس تیزی سے بدل رہی ہے تشدد اور تصادم کے خطرات جنم لے رہے ہیں ان کی مذاکراتی عمل سے قبل یا دوران میں پیش بندی ممکن تھی۔

امریکہ سے گلہ کرنا فضول ہے کہ اس نے طالبان کے ساتھ یکطرفہ طور پر معاہدہ امن کر کے افغانستان کے سیاسی منظر نامے میں افغان طالبان کی سیاسی وقعت میں پیش بہا اضافہ کر کے تاریخی غلطی کی ہے۔

قیاس ممکن ہے کہ واشنگٹن افغانستان کو ایک بار پھر رسہ کشی کے جہنم میں دھکیل کر خطے میں کثیر ملکی باہمی تعاون تجارت وصنعتی ترقی کے عمل کو سبوتاژ کر نا چاہ رہا ہے

افغان معاملہ پر سوچ و بچار میں تاخیر

جس کے لئے افغانستان میں اقتدار کی کشمکش بھیانک انداز میں امریکی مفادات کے لئے کردار ادا کرسکتی ہے۔افغان طالبان کو امریکہ کے ساتھ میز پر لانے سے قبل پاکستان اگر طالبان کو رضامند کر لیتا تو وہ امریکہ کے ساتھ معاملات طے کریں کہ وہ  غیر ملکی افواج کے انخلاءکے بعد ہتھیار بندی ختم کرینگے اور سیاسی ذرائع پر عمل کرتے ہوئے پرامن انداز میں افغانستان کے اقتدار تک رسائی کی کوشش کرینگے

تو شاید موجودہ کشیدگی اور تصادم کی صورتحال کا قبل از وقت تدارک ہوجاتا،مگر اب تو وقت کا تیر ہاتھ کی کمان سے نکل چکا ۔

اس بریفنگ سے قبل جناب وزیراعظم نے بجٹ منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پالیسی بیان داغ دیا تھا ،چونکہ یہ طے تھا کہ وہ بریفنگ میں شرکت کا تکلف نہیں کرینگے چنانچہ انہوں نے باہم متضاد المعنی جملے استعمال کئے

اور فرمایا کہ ہم افغانستان میں امن کے لئے تو امریکہ کے ساتھ ہونگے مگر جنگ کےلئے نہیں۔لہذا امریکہ کو کسی قسم کے فوجی اڈے نہیں دینگے،جناب عمران خان نے ایک ماہ قبل امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کئے بغیر انخلاءنہ کرے

لیکن اس خطاب میں فرمایا کہ افغانستان میں اقتدار کےلئے جنگ ہوئی تو پاکستان اس سے بہت بری طرح متاثر ہوگا ہم نے سرحد پر باڑ لگالی ہے ۔ضرورت پڑی تو بارڈر بھی بند کرینگے تاکہ متحارب فریقین یا متاثرہ افغان عوام ہجرت کر کے پاکستان داخل نہ ہوپائیں۔

وزیراعظم کے خطاب نے اصلاً ان کیمرہ بریفنگ کو مجہول بنانے اور اپنی سیاسی اتھارٹی ظاہر کرنے کے لئے سفارتی آداب اور حکمت عملی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ سب کچھ کہہ دیا جو جذباتی تسکین کےلئے تو شاید مفید ہو مگر ملکی معاملات کےلئے ضرررساں ثابت ہوسکتاہے۔

بریفنگ کے بعد صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک اہم نکتہ عیاں کردیا ہے جس پر بحث ہونی چاہیے۔

5 سے سات لاکھ افغان مہاجرین کی آمد متوقع

انہوں نے فرمایا ”افغان تنازعہ کے باعث 5سے 7لاکھ افغان مہاجرین کی پاکستان آمد متوقع ہے۔“”لفظ“متوقع بہت اہم ہے۔جس میں رضا مندی اوردعوت کا مفہوم بھی موجود ہے شاید جنرل صاحب نے خدشہ کا لفظ کہا ہو۔مگر جنگ اخبار میں متوقع ہی رقم ہوا ہے۔

افغان تنازعہ کے باعث 5سے 7لاکھ افغان مہاجرین کی پاکستان آمد متوقع ہے۔“”لفظ“متوقع بہت اہم ہے۔جس میں رضا مندی اوردعوت کا مفہوم بھی موجود ہے شاید جنرل صاحب نے خدشہ کا لفظ کہا ہو۔مگر جنگ اخبار میں متوقع ہی رقم ہوا ہے

اب سوال یہ ہے کہ افغانستان کے حالات میں تیزی سے آئی ہوئی تبدیلی کے اسباب سمجھنے کا ہے افغان طالبان نے امریکہ اتحادی افواج کے اپنی سرزمین پر قبضہ کی مزاحمت کی۔

بیس سالہ جنگ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی اور نہ  امریکہ افغانستان پر فتح کا پرچم لہرا سکا نہ افغان طالبان اتحادی افواج کو شکست دے سکے ۔مزاحمت کار(طالبان)کابل حکومت اور اتحادی افواج کے خلاف چھاپہ مارکارروائیاں کرتے رہے چھاپہ مار کارروائی حالات مخدوش کرسکتی ہے کسی منظم فوج پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتیں۔

بالآخر پاکستان کے تعاون سے طالبان اور امریکہ نے دو ماہ میں طویل مذاکراتی عمل کے بعد امن معاہدہ پر اتفاق کیا اور امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاءکے دورانیہ طے پایا۔اصولاًاس معاہدے کے تکمیل کے بعد افغان طالبان کے لئے کابل حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا سلسلہ ختم ہوجانا چاہیے تھا

مگر اس کے بر عکس طالبان نے فوجی پیشقدمی جاری رکھی اب وہ کابل سے ایک گھنٹہ کی مسافت پر ہیں تو دوسری جانب کابل حکومت اور شمالی اتحاد بھی صف بندی میں مصروف ہے۔

افغان نیشنل آرمی میں اکثریت شمالی اتحاد سے تعلق رکھنے والے گروہوں کی ہے۔طالبان کے مقابلے کا عزم کرہے ہیں۔طالبان کی اکثریت پشتون ہے جو پاکستان سے ملحقہ سرحد کے ساتھ ساتھ آباد ہیں،

جنگ کی صورت میں جو بحران پیدا ہوگا اس کے ہمہ جہت اثرات ہو سکتے ہیں جن میں افغانستان سے پناہ کےلئے پاکستان کا رخ کرنے والے لاکھوں افراد ایک تشویشناک پہلو ہے۔

حالات کو انتہائی دگرگوں ہونے سے بچانے کا واحد راستہ طالبان کی جانب جنگجویانہ روش  چھوڑ کر سیاسی عمل میں شرکت پر آمادہ ہونے میں مضمر ہے۔

ایسا صرف اسی ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ پاکستان میں ان محفوظ ٹھکانے کارآمد نہ رہیں نیز امریکی افواج جو اس وقت انخلاءکرتے ہوئے اپنا بیشتر فوجی سازوسامان (باقاعدہ حکمت عملی کے تحت)طالبان کو سونپ رہی ہیں

دیکھا جائے امریکہ کا یہ طرز عمل بھی طالبان کو بزور طاقت کابل پر قبضہ کرنے کی ترغیب دینے کے مترادف ہے،لیکن اگر پاکستان افغانستان میں حالات پر امن رکھنے میں سنجیدہ ہے تو اسے 5سے سات لاکھ افغان مہاجرین کی آمد کی توقع رکھنے کے برعکس افغان طالبان پر دباﺅ بڑھانا چاہیے

تاکہ وہ سیاسی طریقہ سے مسئلہ حل کرنے پر آمدہ ہوں،یاد رکھنا چاہیے کہ افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستان کے بیشتر علاقوں میں افغان طالبان یا ان کے ہم خیال لوگ ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں

افغانستان میں تصادم ،پاکستان کیلئے دو دھاری تلوار

اگر افغانستان میں تصادم بڑھ گیا تو پاکستان میں موجود طالبان کی افرادی قوت اثرو وسوخ کو اس سے علیحدہ رکھنا دو دھاری تلوار پر چلنے جیسا ہوگا،جنگ کا تدارک تبھی ممکن ہے جب طالبان کو یقین ہو کہ انہیں زبردست مزاحمت کے ساتھ کسی بھی سمت سے محفوظ ٹھکانے اور حمایت نہیں ملے گی

اس مقصد کےلئے اگر جناب عمران خان اپنے بیان کی روشنی میں(امریکہ کو انخلاءسے قبل سیاسی حل نکالنا چاہیے)کے تحت مشروط طور پر امریکہ کو وہ سہولت دینے پر غورکرنا چاہیے جو افغان طالبان کی پیش قدمی روکنے میں معاون ثابت ہو

ایسا عمل افغانستان میں برادر کشی روکنے اور آزاد خود مختار جمہوری مستحکم افغانستان کا قیام ممکن بنا سکتا ہے۔فیصلہ سازی میں جذبائیت کی بجائے معروضی حقیقت پسندی اولیت کی متقاضی ہونی چاہیے۔

اس امر کا بھی خدشہ موجود ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی بڑھتی پیش قدمی میں تعاون نہ ملنے پر افغان طالبان ،اپنے ذرائع سے یا اپنے اتحادی ٹی ٹی پی کو پاکستان کے اندر بدامنی پھیلانے کےلئے استعمال کر کے پاک افغان سرحد پر عسکری توجہ کو تقسیم کردیں،

کیا ہم افغانستان میں امن کے قیام اور وہاں کی جائزقانونی حکمرانی کو تسلیم کرنے کے لئے افغان بحران سے الگ رہ کر مفید نتائج کی توقع کرسکتے ہیں۔؟؟؟؟؟

اگر طالبان بزور قوت کابل پر قبضہ کرلیں تو کیا پاکستان ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا متحمل ہوگا؟

افغانستان میں امن واستحکام ،پاکستان میں امن واستحکام کےلئے ناگزیر ہے تو دونوں ممالک اس کے حصول کیلئے پر امن جمہوری سیاسی عمل پر بلا تردد عمل اور رکاوٹیں دور کرنے پر متفق ہیں ؟؟

گوادر بندرگاہ کو وسطی ایشیاءکےلئے تجارتی گیٹ وے بنانے اور سی پیک کی کامیابی کےلئے افغانستان میں امن انتہائی ناگزیر ہے۔

طالبان سمجھتے ہیں کہ افغان عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے تو ضروری ہے کہ وہ بلٹ کو چھوڑ کر بیلیٹ کی راہ اپنائیں اسی میں نہ صرف افغانستان بلکہ اس کے پڑوسی ممالک کی بھلائی مضمر ہے ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post انسانی حقوق کا چھاج،امریکہ،چین اور پاکستان
Next post غداری کیس میں‌مفتی کفایت اللہ کی ضمانت منظور،پیر تک رہائی متوقع
Translate »