Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:3 Minute, 54 Second

سید عتیق،احمد کمال


طالبان نے نویں دن آخری سات صوبوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیاجن دارالحکومتوں پر آخری دو دنوں میں قبضہ کیا گیا ان میں ننگر ہار ، خوست، بامیان ، دایکندی ، بلخ، پکتیا ، پروان ، وردک ، کاپیسا ، نورستان ، پنجشیر ، پکتیکا ، پروان اور كابل شامل ہیں ۔

اتوار کے روز طالبان چاروں طرف سے کابل میں داخل ہوئے ۔ سب کے لیئے عام معافی کا اعلان کرنے کے بعد طالبان راہنما صدارتی محل پہنچے جہاں اشرف غنی کے ساتھ انتقال اقتدار پر مزاکرات ہوئے ۔ سہ پہر کے بعد اشرف غنی کابل چھوڑ کر تاجکستان چلے گئے ۔ جس کی تصدیق نائب صدر عبداللہ عبداللہ نے کی ۔ ‏صدر اشرف غنی، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب اور صدارتی آفس کے ڈائریکٹر جنرل فضل فضلي کے ہمراہ تاجکستان گئے

کابل میں صبح کے وقت امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں نے سارا ریکارڈ جلا دیا اور بعدازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفارتی عملے کو نکال لیا گیا ۔ افغانستان چھوڑنے والوں میں برطانوی اور ہندوستان کا سفارتی عملہ بھی شامل تھا ۔


یہ بھی پڑھیں 


امارت اسلامیہ کی قیادت کا انتخاب اور افغان وفد کی پاکستان آمد

توقع کی جا رہی ہے کہ طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر کو افغانستان امارت اسلامی کا سربراہ بنایا جائے گا جب کہ اس سے قبل افغان حکومت کی جانب سے ایک اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان بھیجا گیا تھا مگر وفد کے پاکستان پہنچتے ہی کابل حکومت ختم ہو گئی ۔

کابل سے پاکستان پہنچنے والوں میں اسپیکر افغان قومی اسمبلی میررحمان رحمانی اور  سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے بیٹے صلاح الدین ربانی شامل ہیں۔

وفد میں شامل دیگر اہم  رہنماؤں میں تاجک رہنما اور سابق وزیرداخلہ یونس قانونی ، سابق افغان کمانڈر احمد شاہ مسعود کے دونوں بھائی احمد ضیا مسعود اور احمد ولی مسعود بھی شامل ہیں۔

افغان رہنماؤں میں ہزارہ کمیونٹی کے دو اہم رہنما استاد محقق اور کریم خلیلی بھی موجود ہیں،ان کے علاوہ بلخ کے سابق گورنرسردارعطانور کے بیٹے خالد نور بھی کابل سے پاکستان پہنچے ہیں۔

اسلام آبادائیرپورٹ پراسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصراور نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق نے افغان سیاسی وفد کا استقبال کیا۔

محمد صادق کے مطابق افغان سیاسی قیادت کے دورےکے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائےگا۔

قبل ازیں طالبان نے اعلان کیا تھا کہ وہ کابل میں لڑائی نہیں چاہتے اس لیئے شہر سے باہر رکیں گے مگر سکیورٹی فورسز کے چلے جانے پر بد امنی کے خظرے کو دیکھتے ہوئے طالبان جنگجوئوں کو کابل کی سکیورٹی کی ذمہ داری سونپی گئی اور دوپہر کے بعد کابل میں طالبان کی امد شروع ہو چکی تھی ۔

اب جب کہ کابل انتظامیہ تاجکستان پہنچ چکی ہے ایسے میں صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ طالبان اگلا اقدام کیا کرتے ہیں ۔ افراتفری کو کنٹرول کرنے کے لیئے طالبان جنگجو شہر میں موجود ہیں جہاں بہت سے سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ان سے آ ملے ہیں ۔

رشید دوستم ازبکستان فرار ،قریبی معاون گرفتار

اسی دوران کابل کے اس پاس کے تمام صوبائی دارلحکومتوں پر قبضہ مکمل کر لیا گیا ہے ۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب طالبان نے بلخ صوبے کے دارلحکومت مزار شریف پر بھی اپنا جھنڈا لہرا دیا تھا جب کہ ترکی سے آنے والے رشید دوستم اس وقت حیرتان کی طرف سے بھاگ کر ازبکستان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے

جب بلخ انتظامیہ نے انہیں گرفتار کروانے کی کوشش کی ۔ ان کے ہمراہ سابق گورنر بلخ عطاء محمد بھی راتوں رات نکل گئے البتہ ان کا ایک کمانڈر نظام الدین قیصاری طالبان نے بارڈر سے پکڑ لیا ۔

اس طرح پورا افغانستان ایک بار پھر طالبان کے قبضے میں آ چکا ہے ۔ طالبان کی جانب سے عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے تا ہم چوری چکاری یا لوٹ مار جیسے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو فوری سزائیں دی جا رہی ہیں ۔ روس اپنے سفارتی عملے کو واپس نہیں بلا رہا ۔

تا ہم طالبان کی جانب سے بنائی جانیوالی حکومت کو کون تسلیم کرے گا اور کون نہیں اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے

افغان حکومت پر معاملات کو بگاڑنے کا الزام

سابق جہادی کمانڈر اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار نے اپنے ایک بیان میں کہا افغان حکومت نے جنگ کے خاتمے اور سب کے لیے قابل قبول حکومت کی طرف اقتدار کی منتقلی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ طالبان نے کابل شہر میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا لیکن اس صورتحال سے بعض لوگوں نے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post کابل کی کہانی انجام کو پہنچی ،طالبان نے کنٹرول سنبھال لیا ،اشرف غنی افغانستان بدر
Next post کھیل کا شعبہ اور پی ایس بی کی دوغلی پالیسی
Translate »