عبدالباسط


اس وقت آپ کوئی بھی اخبار اٹھا کر دیکھیں ،نیوز چینل  یا سوشل میڈیا پر دیکھیں آپ کو افغانستان کے بارے میں صرف جنگ ،ماردھاڑ ،طالبان یا امریکہ کی خبریں ہی ملیں گی
ایسے میں اگر کوئی آپ کو کہے کہ چلو یار ذرا افغانستان گھومنے پھرنے چلتے ہیں

تو آپ شاید اسے دیوانہ یا دماغ سے فارغ ہی سمجھیں گے

لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ آپ کہیں راستہ بھٹک کر یا بدل کرکسی ایسے مقام پر جا پہنچتے ہیں جہاں بقائمی ہوش و حواس آپ جانے کی خواہش نہیں رکھتے

اور میرے ساتھ بھی یہی ہوا جب مجھے ایک بین الاقوامی سفر کے دوران بطور کرونا عدت کے پورے دس روز افغانستان میں رکنا پڑا ،جانا تو ہم نے کہیں دور تھا ،لیکن افغان سرزمین کا دانہ پانی نصیب میں لکھا تھا ۔

سو نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں ٹھہرنا پڑا ،لیکن ہم نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور ٹک کر بیٹھنے کے بجائے جہاں تک اور جتنی دور تک جانا کا موقع ملا جی بھر کر گھوم پھرلیے کہ پھر جانے کب دیدار یار ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگرچہ ہمارا سفر و خضر کسی منصوبہ بندی کے بغیر تھا ،لیکن اس موقع کو بھی ہم نے غنیمت میں بدلا اور کچھ مقامی افغان دوستوں کی مدد سے افغانستان کے کچھ حصوں کو دیکھنے اور پرکھنے کے ملنے والے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا


یہ بھی پڑھیں 

  1. افغانستان کی 5 سرحدی کراسنگ طالبان کے زیر قبضہ ،دو ہفتوں‌ میں‌پورے ملک پر غلبے کا دعویٰ‌
  2. الوداع …….افغانستان کو فوج سے فتح نہیں‌کرسکتے ،جوبائیڈن
  3. افغانستان کی مائوں کا دکھ
  4. امریکہ نائن الیون سے پہلے طالبان حکومت کو ختم کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا ،رپورٹ

ہمارے طیارے نے اسلام آباد ائیرپورٹ سے اڑان بھری تو ٹھیک 40 منٹ بعد ہم کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتر گئے

جو کچھ خبروں میں سنتے آرہے تھے یا ٹی وی وغیرہ پر دیکھتے تھے تو ذہن میں ہلکاسا خوف ضرور موجود تھا کہ معلوم نہیں کابل میں کیا صورتحال ہوگی ؟شاید ہر طرف افراتفری ہو ،لوگ ڈر کے مارے بھاگے پھر رہے ہوں گے ۔ چونکہ یہ تو ذہن میں تھا کہ اگلے دس بارہ روز اب یہ شہر ٹھکانہ رہے گا ،

اس لئے اپنے وسوسوں اور خدشوں کو اپنے سفری سامان کی طرح کاندھے سے لٹکائے ہم بھی خراماں خراماں ایئرپورٹ سے باہر نکل آئے

ہوائی اڈے سے باہر نکلے تو زندگی معمول کے مطابق نظر آئی ،چاروں طرف لوگ اپنے اپنے فکر روزگار میں ڈوبے دکھائی دے رہے تھےجن کیلئے دنیا ساری پریشان و ہلکان ہورہی ہے ،ان افغانوں کے چہرے پر دور تک کسی کے خوف کا شائبہ تک دکھائی نہ دے رہا تھا ۔

کابل شہر پہلی نظر میں
یہاں پہنچ کر اکثر پاکستانیوں کو اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا ،کیوں کہ ہمارے بھی اسی طرح کے بے ترتیب مناظر ہر روز دیکھنے کو ملتے ہیں

پہلے مشکوک نگاہوں سے اردگرد نظر دوڑائی لیکن سب کچھ معمول کے مطابق نظر آیا تو ہماری بھی ہمت بڑھی اور ائیرپورٹ سے ایک ٹیکسی پکڑ کر سیدھا میوند جادہ میں واقع اپنے ہوٹل پہنچ گئے

ہوٹل میں سامان رکھا اور ہاتھ منہ دھو کر قدرے تازہ دم ہوئےہمارا قیام جس ہوٹل میں تھا وہاں کافی تعداد میں درمیانی درجے کے ہوٹل موجود تھے ،جن کے کرائے اور سہولتیں دونوں مناسب تھیں

باہر جھانکا تو وہاں دکھائی دینے والے مناظر میں بھی کچھ خاص اجنبیت محسوس نہ ہوئی ،بلکہ پہلی نظر میں تو یہی گمان ہوا کہ ہم شاید پاکستان کے کسی اپنے ہی شہر میں موجود ہیں

سڑکوں ،فٹ پاتھوں پر اسی طرح کا رش ،ریڑھیاں ،تھڑے ،نئی و پرانی گاڑیاں اور بسیں اور ان سب میں سڑکوں پر اڑتی دھول ،البتہ خواتین خال خال ہی دکھائی دیں

نہ ماحول کا فرق تھا اور نہ چہرے بشرے کا ،بہت سے دیگر پاکستانی بھی ساتھ تھے اس لئے بھی پردیس کا شائبہ کچھ زیادہ نہ ہوا

ایسا لگا جیسے ہم ہوٹل کی بالائی منزل سے راولپنڈی کے راجہ بازار ،کراچی کی بولٹن مارکیٹ یا پشاور کے کسی بازار کا نظارہ کررہے ہوں

ہوٹل کی چھت سے رات کی تاریکی میں کابل شہر کا ایک روشن منظر ،یہاں بجلی تکنیکی خرابیوں کا شکار رہتی ہے اس لئے روشنی کیلئے جنریٹر سب سے قابل اعتبار ذریعہ توانائی تصور کیا جاتا ہے :تصویر عبدالباسط

پہلے ایک دو دن تو اردگرد کو دیکھنے اور سمجھنے میں بسر ہوگئے ،اگلے روز ہم چند دوستوں نے قریبی علاقوں میں گھومنے پھرنے شہر دیکھنے اور لوگوں سے ملنے کا فیصلہ کیا

اگر آپ کو پشتو زبان آتی ہے توپھر آپ کو شاید زیادہ پریشانی نہ ہو ،لیکن پھر بھی کوئی اتنی زیادہ پریشانی کی بات نہیں کیوں کہ کابل سمیت افغانستان کے تقریبا ہر شہر میں آپ کو ایسے لوگ ضرور مل جاتے ہیں جو اردو بول اور سمجھ سکتے ہیں ،کیوں کہ ہجرت کے بعد بہت سے لوگوں کا وقت پاکستان میں گزر چکا ہے

اگر یہ سب کچھ نہ بھی ہو تو بدن بولی یعنی اشاروں کی زبانوں تو دنیا کے ہر کونے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے

دوسرا یہ کہ سارے افغانستان میں سے اکثر گھرانوں کا کوئی نہ کوئی فرد پاکستان میں ضرور موجود رہا ہے ،یا اب بھی موجود ہے ۔البتہ بعض مقامات پر اردو بولنے کی صورت میں آپ کو کچھ تیکھی نگاہوں کا سامنا ضرور کرنا پڑسکتاہے ،لیکن ہر جگہ ایسا نہیں ،بلکہ آپ کسی کو بھی اپنا تعارف کروائیں تو آپ کو گرمجوشی دکھائی دیتی ہے ،

جہاں تک لباس کا معاملہ ہے تو پاکستان اور افغانستان کا لباس کم و بیش ایک جیسا ہی ہے ۔البتہ کچھ علاقوں کے لباس میں قدرے فرق ہے ۔

افغان کھانے کے شوقین

ہمارے ہاں کی طرح افغانستان میں طبقاتی فرق موجود ہے ،جو ہر جگہ دکھائی دیتا ہے ،لیکن ایک بات ضرور ہے کہ افغان چاہے امیر ہو یا غریب کھانے پینے کے معاملے میں کبھی کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کرتے ،

ان کے کھانوں میں مصالحہ جات کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے ،سادہ لیکن لذیز کھانے ہوتے ہیں ،گوشت افغانوں کی مرغوب ترین غذا ہے ،جہاں چھوٹا اور بڑا گوشت ایک بھائو ملتا ہے اور خوب بکتا ہے

افغانی نان اپنے ذائقہ اور خستگی میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں ،اگرچہ افغانستان میں بھی ہمارے ہاں کی طرح طبقاتی فرق بڑا واضح دکھائی دیتا ہے ،لیکن خوراک کے معاملے میں افغان کبھی کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کرتے ،گوشت ان کی مرغوب غذا ہے ،یہاں چھوٹا اور بڑا گوشت ایک بھائو ملتا ہے اور خوب بکتا ہے تصویر عبدالباسط

اس کے علاوہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والے پھل تقریبا ً ہر دسترخوان کا حصہ ہوتے ہیں ،افغانستان عرصہ دراز سے بدامنی کا شکار ہے لیکن زرعی پیدوار میں کافی حد تک مقامی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے البتہ کئی اشیاء پاکستان اور ایران سے بھی منگوائی جاتی ہیں

یہاں کے پھل اپنے ذائقہ اور غذائیت کی وجہ سے مشہور ہیں ۔کھانے پینے کی اشیاء زیادہ مہنگی نہیں بلکہ ہر شخص کی دسترس میں ہیں

اس وقت چیری اور خوبانی کا موسم تھا اور یہ پھل ہرجگہ باآسانی اور نہایت ارزاں داموں دستیاب تھا ۔

ڈالر اور افغانی عام مستعمل کرنسی ہے ،ہمیں بتایا گیا کہ کچھ سال قبل تک مختلف علاقوں میں پاکستانی کرنسی بھی قابل قبول ہوتی تھی لیکن یہ سلسلہ ختم ہوچکا ہے

شہر نو  پاکستان کا راولپنڈی اور اسلام آباد

ہمارا قیام جس ہوٹل میں تھا یہ کابل کے پوش علاقے یعنی شہرنو کے ساتھ ملحقہ علاقہ میوند جادہ ہے ،اس تھوڑا فاصلہ پر شہرنو کی حدود شروع ہوجاتی ہے ،جو بنیادی طور پر اشرافیہ کا علاقہ ہے ،

بالکل جس طرح راولپنڈی اور اسلام آباد کا فرق ایک سڑک پار کرتے ہی واضح ہوجاتا ہے اسی طرح شہرنو بھی باقی کابل سے الگ ہی دنیا کا حصہ دکھائی دیتا ہے

کابل کا پوش علاقہ جسے شہر نو کہا جاتا ہے ،عام کابل سے الگ تھلگ دنیا کا نظارہ پیش کرتا ہے ،کثیرالمنزلہ عمارات ،پلازہ اور شاپنگ مال دیکھ کر گماں نہیں ہوتا کہ یہ علاقہ افغانستان کا حصہ ہے یا کسی ترقی یافتہ ملک کا شہر :تصویر عبدالباسط

صاف ستھری کشادہ سڑکیں ،بڑی بڑی عمارات ،عظیم الشان کوٹھیاں اور بلڈنگیں اور شاپنگ مال ۔شہرنو میں داخل ہو کر انسان چند لمحوں کیلئے یہ بھول جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں ہی ہے یا یورپ کے کسی ملک میں ہے ۔چونکہ یہاں بجلی کی فراہمی کا نظام اکثر متاثر رہتا ہے اس لئے یہاں زیادہ تر جنریٹر پر انحصار کیا جاتا ہے

افغان دوستوں سے ملاقات اور جلال آباد کا سفر

ہوٹل میں قیام کے دوران مجھے اپنے ان افغان دوستوں کا خیال آیا جو مانسہرہ میں کافی عرصہ تک قیام پذیر رہے ،لیکن گذشتہ کئی سالوں سے وہ واپس افغانستان جا چکے ہیں اور وہاں اپنے کاروبار کررہے ہیں ۔ان سے رابطہ ہوا تو وہ بھی ملنے پہنچ گئے

میرے دوست کے والد طالبان کے دورحکومت میں اہم عہدے پر فائز رہے ،لیکن طالبان حکومت ختم ہونے کے بعد وہ پاکستان چلے گئے جہاں چند سال قیام کے بعد واپس آئے اور یہاں کاروبار کرنے لگے ،جو اب ان کے بیٹے سنبھال رہے ہیں

میرے دوست کا ٹھکانہ چونکہ جلال آباد میں تھا اس لئے ہم نے پہلی فرصت میں اپنے دوست کے ہمراہ وہیں جانے کا پروگرام بنایا ۔

اپنے افغان دوستوں کے ہمراہ سفر جلال آباد

جلال آباد شہر کابل سے ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے ،دونوں شہروں کو ملانے والی شاہراہ اگرچہ زیادہ کشادہ تو نہیں البتہ مضبوط اور اچھی بنی ہوئی ہے ۔

جس طرح خبروں میں سنتے آرہے تھے تو ذہن میں ہلکا سا اندیشہ ضرور موجود تھا ، مرکزی شاہراہوں پر چیک پوسٹیں موجود تھیں ،جہاں گزرنے والوں سے معمول کے مطابق پوچھ تاچھ کی جاتی ۔ہمارے بھی کاغذات چیک کرنے کے بعد ہمیں گزرجانے کا اشارہ کیا گیا

سڑکوں پر زیادہ ترقیمتی گاڑیاں دوڑتی دکھائی دیتی ہیں ،یہاں ٹیکسوں میں چھوٹ کے باعث پاکستان کے مقابلے میں گاڑیاںکافی سستی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اچھی اور آرام دہ گاڑی بھی بہت مناسب کرائے میں آپ حاصل کرسکتے ہیں

افغانستان کے سفر کے دوران زیادہ تر خشک پہاڑ دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن بعض مناظر ایسے بھی ہیں جنہیں دیکھ کر روح کے اندر تک تازگی اور فرحت اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے

اگلے پانچ روز تک اپنے افغان دوستوں کی معیت میں مجھے جلال آباد ،کنڑ اور دیگر علاقے گھومنے کا موقع ملا ۔اگرچہ افغانستان کا زیادہ تر علاقہ پہاڑی ہے لیکن اس کے باوجود کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں کا قدرتی حسن قلب و نظر کو تازگی عطا کردیتا ہے

پغمان افغانستان کا مری

کابل شہر سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر واقع پغمان انتہائی خوبصورت ،سرسبز اور صحت افزا سیاحتی مقام ہے ۔جہاں لوگ سیر و تفریح کیلئے جاتے ہیں ۔اگرچہ حالات کی وجہ سے بیرونی یا اندرونی باقاعدہ سیاحت کا رجحان بہت کم ہے

لیکن اس کے باوجود تعطیلات کے دوران یہاں دریا کنارے نوجوانوں کی ٹولیاں جا بجا بیٹھی دنیاکی فکروں کو بھلانے کی کوشش میں مصروف نظر آتی ہیں

واضح رہے کہ افغانستان کے 34 صوبے ہیں ،جن میں سے اکثر ہمارے ضلع مانسہرہ یا ایبٹ آبادبھی سے آباد ی اور رقبہ کے لحاظ سے بہت چھوٹے ہیں )

پغمان کا سرکاری محل

پغمان چونکہ ایک طرح کا گرمائی سٹیشن ہے جہاں ں واقع سرکاری محل اکثر سرکاری عمال یا بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔جب ہم وہاں پہنچے تو ہمارے دل میں اس محل کو اندر سے دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی ۔

گیٹ پر موجود اہلکار سے ہم نے بات کی اور اسے بتایا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں اور محل کو دیکھنا چاہتے ہیں

پغمان افغانستان کا گرمائی سٹیشن ہے ،یہ محل سرکاری عمال یا بیرونی وفود کی مہمانداری کیلئے استعمال ہوتا ہے تصویر عبدالباسط

اس اہلکار نے جاکر اپنے افسر کو مطلع کیا ،تھوڑی دیر گزری ہوگی کہ حفاظتی دستے کا افسر خود ہمیں ملنے باہر آگیا ،اس نے نہایت خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کیا اور ہمیں بٹھا کر افغانوں کی روایتی چائے یعنی قہوہ پلایا۔

اس کے بعد انہوں نے ہمیں محل کے مختلف حصے دکھائے ،البتہ رہائشی حصے کے طرف کسی کو بھی جانے کی اجازت نہ دی گئی

باچا خان کا مزار

باچا خان کا نام پاکستان میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ،جنہوں نے اپنی قوم کے حقوق کیلئے طویل اور غیرمتزلزل جدوجہد کی۔اول تا آخر اپنے اصول پر قائم رہنے کی وجہ سے پہلے وہ انگریز سرکار کے ناپسندیدہ ہوئے اور پھر پاکستانی اشرافیہ سے بھی ان کی نہ بن سکی ۔

جلال آباد میں واقع برصغیر کے معروف سیاستدان باچاخان کا مزار،اس مزار سے ملحقہ زمین کو ان کے خاندان نے مفاد عامہ کیلئے وقف کردیا ہے ،جہاں ایک عیدگاہ ،مدرسہ اور لائبریری قائم کردی گئی ۔ تصویر عبدالباسط

باچا خان کا مزار جلال آباد میں واقع ہے ،جس کیساتھ کافی بڑا قطعہ زمین ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان کے مزار کی حالت کافی خستہ ہوچکی تھی ،جس کی حالیہ سالوں کے دوران تزئین نو کی گئی ہے ۔

جبکہ مزار سے ملحقہ زمین کو مفادعامہ کیلئے وقف کردیا گیا ہے ،جس پر ایک مدرسہ ،عیدگاہ ،ہسپتال اور لائبریری قائم ہے ۔ہم تھوڑی دیر وہاں رکے اور فاتحہ خوانی کے بعد واپسی کی راہ لی

افغانستان کے حالات اور عام لوگ

اگرچہ کابل میں قیام کے دوران افغانستان کے متعدد علاقوں میں جانے اور دیکھنے کا موقع ملا ،میڈیا سے باہر کی دنیا میں افغانستان بہت پرسکون دکھائی دیا ۔

وہاں موجودگی کے دوران ملک کے مختلف حصوں سے جنگ اور لڑائی کی خبریں سننے کی ملتی رہیں ،جن کے بارے میں عام لوگوں سے بات چیت ہوتی تو وہ اس طرح فکر مند دکھائی نہیں دے رہے تھے جس طرح باقی دنیا افغانستان کی فکر میں گھلی جارہی ہے

وہاں کے ایک عام شہری اور مزدور کی پہلی ترجیح اس کی دیہاڑی ہے تاکہ شام کو اس کے گھر کا چولہا جل سکے ۔

جس طرح ہمارے ہاں سیاست کے دو نظریے ہوتے ہیں یعنی ایک بالادست طبقے کی سیاست جن کے نزدیک ملکی سلامتی ہر وقت خطرے سے دوچار رہتی ہے اور دنیا ان کے خلاف ہمہ وقت سازش میں مصروف ہوتی ہے ،جبکہ دوسری عوامی اور گلی محلے کی سیاست ہےجس میں دنیا کے ہر مسئلہ کی بنیادی وجہ ان کی سیاسی قیادت کی نااہلی یا زرپرستی ہے

بازار میں یا قہوہ خانے پر مختلف لوگوں کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ محسوس ہوا کہ عام شہریوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ طالبان آرہے ہیں یا اشرف غنی جارہے ہیں

بلکہ اکثر ریڑھی بانوں یا مزدوروں کے نزدیک افغان حکومت امریکہ سے مزید ڈالر بٹورنے کیلئے طالبان کے ہوے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے

بگرام ایئربیس کے خالی ہونے کی خبر

جس صبح امریکی فوجوں کی جانب سے رات کی تاریکی میں بگرام ایئربیس کو خالی کرنے کی خبر عام ہوئی تو اس وقت ہمارے دل میں بھی اس ایئربیس کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی ، یہ ایئر بیس ہماری رہائش سے چند کلومیٹر دوری پر واقع تھا۔

جس صبح امریکیوں کی جانب سے بگرام ایئربیس کو خالی کرنے کی خبر عام ہوئی تو ہمارے دل میں بھی وہاں جانے کی خواہش جاگی ،لیکن آدھے راستے میں یہ ارادہ ترک کرنا پڑا کیوں کہ وہاں کے بارے میں اطلاع ملی کہ لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے ہمارے کیلئے مسئلہ پیدا نہ ہوجائے ۔ تصویر عبدالباسط

ہوٹل سے روانہ ہوئے لیکن تھوڑی دور جانے کے بعد ایک افغان دوست نے وہاں نہ جانے کا مشورہ دیا کیوں کہ اس وقت اس علاقے میں لوٹ مار کی خبریں پھیل رہی تھیں

اس لئے دوست نے ہمیں یہ کہہ کر وہاں جانے سے روک دیا کہ کہیں آپ کا پاکستانی ہونا آپ کیلئے پریشانی کا باعث نہ بن جائے ۔کیوں کہ بعض اوقات سچ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جھوٹ آدھا ملک جلا کر راکھ کرچکا ہوتا ہے ۔

کیا افغان پاکستانیوں سے نفرت کرتے ہیں ؟

ہمارے ہاں اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ افغان پاکستان یا پاکستانیوں سے نفرت کرتے ہیں ،شاید جس طرح ہمارے ہاں کچھ لوگ محدود سوچ کے حامل ہیں اس طرح ان کے ہاں بھی تنگ نظر لوگ موجود ہیں ،جن کا سارا کاروبار ہی نفرت کی بنیاد پر چل رہا ہوتا ہے

لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام افغان شہری پاکستان اور پاکستانیوں کی دل سے قدر کرتے ہیں ،اکثر نجی محفلوں میں وہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ دینے کا اعتراف کرتے ہیں ،جہاں آج بھی لاکھوں افغان شہری باعزت طریقہ سے زندگی بسر کررہے ہیں،

کابل شہر کی اجناس کی عام مارکیٹ ،یہاں اکثر یہی احساس ہوتا ہے کہ ہم پاکستان کے ہی کسی شہر میں موجود ہیں ،وہی ماحول اور وہی دکانیں

آج بھی افغانستان کے کم و بیش ہر گھرانے کا کوئی ایک آدھ فرد پاکستان میں ضرور موجود ہے یا ماضی میں وہ یہاں رہ کر جاچکے ہیں

اس لئے ماسوائے ایک محدود طبقے یا مختلف نکتہ نظر کے حامل لوگوں کی سوچ اور طرز عمل کو پوری قوم پر لاگو کردینا قرین انصاف قرار نہیں دیا جاسکتا ،میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ عام افغانوں کو پاکستان یا پاکستانیوں سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ہر ایک خواہشمند ہے کہ ان کے ملک میں جلد از جلد امن آجائے اور وہ سکون کیساتھ اپنی زندگیاں بسر کرسکیں

واپسی کا سفر

اگرچہ افغانستان کا سفر کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ نہ تھا اور نہ ہی اس حوالے سے ہماری کوئی تیاری تھی ،کہ وہاں کہاں کہاں جائیں گے ؟کس سے ملیں گے ؟یا کوئی ایسا خاکہ ذہن میں نہ تھا جو قبل از وقت ذہن میں آیا ہو اور ہم نے اس پر عمل کیا ہو

بلکہ یہ ایک غیر ارادی سفر تھا ،اس لئے اس وقت جبکہ افغانستان کے حوالے سے ہرجانب سے جنگ وجدل اور گولہ وبارود کی خبریں آرہی ہیں ،ہم نے ایک عام شہری کی حیثیت کی سے جو کچھ افغانستان میں دیکھا یا اپنے جیسے عام لوگوں سے جو کچھ سنا اسے بلاکم و کاست بیان کرنے کی کوشش کی ،

تاکہ افغانستان کا وہ پہلو بھی دنیا دیکھ سکے جس کے بارے میں عام طور پر اس وقت کوئی بات نہیں کرتا

دس روز بعد جب ہمیں کووڈکی وجہ سے اگلی پروازکی اجازت نہ ملی تو ہمارے پاس پاکستان لوٹنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔سو ہم نے بذریعہ سڑک کابل سے طورخم کی راہ لی ۔اور چند گھنٹوں بعدسرحد پار کرتے ہوئے سرزمین امان پر پہنچ آئے

بارڈر سے ٹیکسی میں بیٹھے تو ڈرائیور کو بھی افغانستان کے حالات کے بارے میں کافی متفکر اور دلگرفتہ پایا ۔ہم جو کچھ دیکھ کر آئے تھے ،سن کر شاید ہم بھی افغانستان کے بارے میں اتنے ہی فکرمند ہوتے جتنے کہ ہمارا ٹیکسی ڈرائیور بھائی اپنے افغان بھائیوں کیلئے پریشان تھا ۔

Translate »