احمد کمال
اسلام آباد


 بدھ کی رات 1 بج کر 54 منٹ 36 سیکنڈ پرپاک افغان سرحد سے 5 کلومیٹر مغرب افغانستان کے صوبہ خوست میں، خوست شہر سے 46 جنوب مغرب میں موجود مقام سے 10 کلومیٹر گہرائی میں 5.1 ریکٹر سکیل کے زلزلہ کا آغاز ہوا۔جس سے افغانستان کے صوبوں میں ہونے والی تباہی اور نقصانات کا اندازہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے 

20 سالہ جنگ سے تباہ حال افغانستان کی حالیہ تاریخ کے بدترین زلزلہ اب تک اموات کی تعداد 1 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے ۔جبکہ ڈیڑھ ہزار کے قریب زخمیوں کی اطلاعات ہیں ۔افغان میڈیا اور حکام کے مطابق دوصوبے خوست اور پکتیا شدید متاثر ہوئے ہیں ۔جن میں ہزاروں مکانات تباہ اور متاثر ہوئے ۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق5.9 شدت کے زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 44کلومیٹر دور پاکستان کی سرحد کے قریب کا علاقہ تھا ،جس کی گہرائی 51 کلومیٹر تھی ۔

اقوام متحد ہ کے امدادی ادارے او سی ایچ اے کی جاری کردہ ابتدائی تفصیلات کے مطابق صوبہ پکتیا کا ضلع گیان شدید ترین متاثرہ علاقوں میں شامل ہے ،جہاں 70 فیصد سے زائد مکانا ت تباہ ہوچکے ہیں ۔جبکہ افغان محکمہ دفاع کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کیلئے 5 ہیلی کاپٹر اور طبی عملہ روانہ کردیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں یونیسیف کی جانب سے بارہ ٹیمیں بھیجی گئی ہیں

طالبان حکومت کو مسائل کا سامنا

گذشتہ سال اگست میں افغانستان کا اقتدار واپس حاصل کرنے والی طالبان حکومت کو وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی سے نمٹنے اور متاثرین کی بحالی میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے کیوں کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان عملاً عالمی تنہائی کا شکار ہے اور پڑوسی ممالک سمیت دنیا کیساتھ ان کے باقاعدہ سفارتی تعلقات بحالی نہیں ہوسکے ۔باوجودیکہ طالبان حکام کی جانب سے بھرپور امدادی کاروائیوں کا اعلان کیا جارہا ہے ۔تاہم اس کے باوجود بڑی پیمانے پر ہونے والی تباہی سے نمٹنے کیلئے انہیں دنیا کی مدد کی ضرورت محسوس ہوسکتی ہے ۔


یہ بھی پڑھیں


طالبان حکومت کے سینئر رہنما انس حقانی نے ایک ٹوئٹ میں کہا افغان حکومت اپنی بساط کے مطابق متاثرین کی بحالی میں مصروف ہے ۔اور ہمیں امید ہے کہ اس کڑے وقت میں عالمی برادر ی اور امدادی ادارے متاثرین کی مدد کیلئے آگے آئیں گے ۔

اموات کی تعداد بڑھنے کا خدشہ

افغان محکمہ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اب تک ایک ہزاراموات جبکہ ڈیڑھ ہزار کے قریب زخمی افراد کی تصدیق ہوچکی ہے ۔تاہم اقوام متحدہ کے امدادی ادارے یونیسیف کی جانب سے زلزلہ کی شدت اور تباہی کے پیش نظرانسانی جانوں کے ضیاع میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کیوں کہ راستے کی بندش اور بارش کے باعث ابھی تک بہت سے متاثرہ علاقوں تک امدادی اداروں کی رسائی ممکن نہیں ہوسکی ہے ۔

دریں اثناء افغان وزیر اعظم محمد حسن اخوند نے ایک ہنگامی اجلاس میں امدادی کاروائیوں کو موثر بنانے پر زور دیا جبکہ افغان حکومت کے نائب ترجمان بلال کریمی نے امدادی اداروں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں بھیجنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچاجاسکے ۔
صوبہ پکتیکا کے مقامی محکمہ اطلاعات کے سربراہ محمد امین حذیفہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ صوبہ پکتیکا کے گیان ،زیروک ،ناکا اور برمال کے اضلاع میں زیادہ تباہی ہوئی ہے اور ہزاروں مکانات زمین بوس ہوچکے ہیں ،جس سے اندیشہ ہے کہ اب بھی سینکڑوں لوگ ملبے کے نیچے دبے ہوسکتے ہیں

پاکستان کا اظہار افسوس امداد کا اعلان

وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اپنے ایک ٹوئٹ میں افغانستان میں انسانی جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہارکیا ہے اور متاثرین کی بحالی و مدد کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے

پاکستان کے دفترخارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں افغانستان میں زلزلہ اور سیلاب سے ہونے والی تباہی اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پوری پاکستانی قوم اپنے افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ،اس سلسلے میں پاکستانی اور افغان حکام کے مابین روابطہ جاری ہیں اور برادرملک کے متاثرین کی بحالی و امداد کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی ۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »