مسرت اللہ جان

پشاور


سنتے آرہے ہیں کہ اللہ تعالی اگر کسی شخص کو عام آدمی کے مقابلے میں صلاحیت کم دیتا ہے تو اسے ایک اضافی صلاحیت بھی اللہ تعالی کی طرف سے ودیعت ہوتی ہیں تاہم اس اضافی صلاحیت کو جاننا اور اس صلاحیت کے بل بوتے پرزندگی کے دوڑ میں آگے آنا بھی بڑی ہمت کی بات ہوتی ہیں.

پشاور کے شیر بہادر بھی اپنے نام کی طرح بہادر انسان ہیں  جن کے گھر میں دو سپیشل بچے موجود ہیں جو دونوں بہن بھائی ہیں . بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ان دو بچوں کو کھیل کے میدان تک لانا اورانہیں آگے مواقع فراہم کرنا بھی شیر بہادر جیسے باپ کی ہمت ہے .

اور یہی ہمت اور جذبہ ہے جس کی وجہ سے آج ان کی بیٹی سکواش کے قومی سطح کی کھلاڑی بن چکی ہیں . جبکہ ان کا چھوٹا بیٹا ابھی سکواش کے میدا ن میں اپنے قدم جما رہا ہے.شیر بہادر بھی انہی بچوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں.

سماعت سے محروم دو بچوں کی تربیت کرنیوالے شیر بہادر

انڈر 15 کی کیٹگری میں گولڈ میڈل جیتنے والی ثناء بہادر سکواش کی وہ باصلاحیت کھلاڑی ہیں جو اپنے والد اور کوچ کی ہدایات کو اشاروں سے سمجھ کر سکواش کھیلتی ہیں سکواش کے دیگر کھلاڑیوں کے مقابلے میں ثناء بہادر میں سیکھنے کا رجحان زیادہ ہے

یہی وجہ ہے کہ بہت کم عرصے میں ثناء بہادر نے نہ صرف صوبائی سطح بلکہ قومی سطح کے مقابلوں میں متعدد گولڈ میڈل حاصل کئے.


یہ بھی پڑھیں 

خیبرپختونخواہ میں ضم شدہ اضلاع کے سپورٹس فنڈز کے اجراء میں‌تاخیر کیوں؟

بیروت میں‌منعقدہ ایشین تائیکوانڈو مقابلوں میں‌پاکستانی کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی

ٹورڈی خنجراب سائیکل ریس میں افغان خواتین سائیکلسٹ بھی حصہ لیں گی

کھیلوں کے فنڈز کارکردگی سے منسلک ،غیرفعال ایسوسی ایشنز کی رقوم بند کرنیکا فیصلہ


سکواش کورٹ میں ہمیشہ وقت پر پہنچ کر پریکٹس کرنے والی ثناء بہادر کو سکواش کی تیزی سے گھومتی ہوئی گیند کی آواز تو سنائی نہیں دیتی  لیکن تیزی سے واپس آتے ہوئے بال کو اسی رفتار سے ریکٹ کیساتھ واپس کورٹ کے دیوار پر د ے مارتی ہے کہ مخالف کھلاڑی بھی حیران و پریشان رہ جاتے ہیں .

ثناء بہادر کے والد شیر بہادر کے مطابق ہاکی کوچ لالہ روف کے مشورے سے ثناء کو 2016 میں پی اے ایف ہاشم خان سکواش کمپلیکس میں تربیت کیلئے داخل کروایاکوچز اور ثناء کی اپنی محنت کی وجہ سے اس نے انڈر 13 کی چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا

انڈر 15 کے مقابلوں میں بھی فاتح رہی ‘ جبکہ انڈر 17 کے مقابلوں میں رنر اپ رہی ثناء بہادر کے والد کے مطابق کرونا کی وجہ سے سکواش کورٹ بند رہے جس سے ثناء کا کھیل بھی کافی متاثر ہوا

یہی وجہ ہے کہ آج کل ثناء دو مختلف سیشنز میں تربیت حاصل کررہی ہیں صبح کے وقت فزیکل ٹریننگ کیساتھ ساتھ تین گھنٹے کی پریکٹس ثناء کا روزانہ کا معمول ہے جبکہ اس کے بعد شام چار بجے کے بعد نمائشی مقابلے کھیلتی ہیں سابق سکواش چیمپئن قمر زمان بھی ثناء بہادر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں

عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کیلئے سخت محنت

ان کی خواہش ہے کہ ثناء بہادر ورلڈ جونیئر چیمپئین شپ میں پاکستان کی نمائندگی کرے ثناء سکواش چیمپئن قمر زمان سے بہت متاثر ہے یہی وجہ ہے کہ وہ قمر زمان کی ہدایات پر اپنی پریکٹس مزید بہتر انداز میں  کرتی ہیں.

شیر بہادر کی بہادر بیٹی ثناء نہ صرف کھیل کے میدان میں ٹاپ پوزیش پر ہیں بلکہ خصوصی بچوں کی لئے بنائے گئے سکول میں بھی تعلیمی میدان میں بھی ٹاپ پوزیشن پر آتی ہیں انڈر 19 میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ثناء بہادر گھرکے کام کاج میں بھی والدہ کا ہاتھ بٹاتی ہیں –

شیر بہادر کے مطابق اس کی خواہش ہے کہ ان کے دونوں بچے جو سپیشل ہیں کھیل کے میدان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کریں. یہی وجہ ہے کہ اپنے دونوں بچوں پر توجہ دیتے ہیں تاہم ان کی خصوصی توجہ اپنی بیٹی ثناء بہادر پر ہے جو سکواش کے میدان میں انشاء اللہ ایک نئی تاریخ رقم کریں گی ۔

Translate »