Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:12 Minute, 0 Second
بی اے ۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور

عائشہ برکت، بہاول پور
قومی زبان کی حیثیت و اہمیت

دنیا میں کوئی قوم اپنی زبان کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ ہماری قومی زبان اردو ہے۔ قومی زبان سے مراد وہ زبان ہے جو سارے ملک کو اتحاد کے بندھن میں باندھ رکھے، جو ایک دوسرے کے عقائد، نظریات اور خیالات کو سمجھنے میں معاون و مددگار ہو۔ اور تعلیم کی اساس کو مضبوط کرے۔ قومی یکجہتی میں قومی زبان کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔

پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے 1948ء میں اس حوالے سے قانون پاس کیا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے اردو کی قومی زبان کی حیثیت کا اعلان بھی کر دیا۔ قائد کے اعلان کے بعد کسی پس و پیش کی گنجائش نہیں رہ گئی تھی لیکن بعد ازاں پاکستان دشمن لابی کے پروپگنڈے کے زیر اثر اور دیگر سیاسی وجوہات کی بنیاد پر قومی زبان کا مسئلہ کھٹائی میں پڑا رہا۔ لیکن 1973ء کے متفقہ آئین میں اس کی قومی و سرکاری حیثیت کا تعین کر دیا گیا۔ چنانچہ آئین کی دفعہ 251 کا درج ذیل متن اس صورت حال کو مکمل طور پر واضح کر دیتا ہے کہ ”پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی“

قائد اعظم اور قومی زبان

اکتوبر 1937ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے 25ویں اجلاس لکھنوکی دوسری نشست میں راجہ امیر احمد خان آف محمود آباد نے اردو کے حوالے سے ایک قرار داد پیش کی اس اجلاس کی صدارت قائد اعظم محمد علی جناح کر رہے تھے۔ اس قرار داد میں کہا گیا تھا کہ ”جیسا کہ اردو زبان ایک ہندوستانی زبان ہے اور ہندو مسلم ثقافت کے باہمی تعامل و ارتباط کا نتیجہ ہے اور ملک کی کثیر آبادی اس کو بولتی ہے یہ متحدہ قوم کے ارتقاء میں معاون ہے۔ اسے ہندی میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنا اردو کی ساختیاتی بنیادوں کو بری طرح متاثر کرے گا بلکہ یہ عمل ہندو اور مسلمان طبقات کے درمیان رفاقت کے فروغ میں بھی رکاوٹ ڈالے گا۔

آل انڈیا مسلم لیگ ہندوستان کے اردو بولنے والے عوام سے یہ اپیل کرتی ہے کہ وہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر اور ہر علاقے میں اپنی زبان کے تحفظ کے لیئے جدوجہد کریں۔ جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے اختیاری مضمون کی حیثیت سے اردو کی تدریس کے انتظامات کیئے جائیں اور تمام سرکاری محکموں، عدالتوں، مجلس قانون ساز، ریلوے، اور محکمہ ڈاک میں اردو کے استعمال کیئے جائیں“

یہ بھی پڑھیں

آل انڈیا مسلم لیگ نے جون 1936ء میں آنے والے انتخابات کے پارلیمینٹری بورڈ کا جو منشور جاری کیا، اس میں بھی یہ اصول واضح کیا کہ پارلیمانی بورڈ اردو زبان کے رسم الخط اور تحفظ کے لیئے کام کرے گا۔ 1936ء میں بمبئی کے ایک جلسہ عام میں قائد اعظم نے دوران تقریر اردو میں چند جملے ادا کیئے۔ لیکن 1937ء میں مسلم لیگ بجنور (یوپی) کے جلسہ کی صدارت تحریک خلافت کے راہنما مولانا شوکت علی کر رہے تھے جب وہاں قائد اعظم نے اپنی تقریر کا آغاز اردو میں کیا اور پھر انگریزی میں اپنی تقریر مکمل کی۔ اسی جلسہ میں قائد نے کہا کہ اسلام اور اردو مسلمانوں کے لیئے اتحاد کے بنیادی عناصر ہیں۔

19 ستمبر 1937ء کو شملہ میں ایک عوامی استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا کہ ”اگر میں اپنی زندگی میں اپنی قوم کو مضبوط، آزاد، اور محب وطن بنا دیتا ہوں تو میں یہ سمجھوں گا کہ میں نے اپنی زندگی کا مقصد پا لیا ہے۔ قومی زبان وہ ہے جو اپنے بولنے والوں کے تمام تفردات کے باوجود انہیں ایک قوم بنانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ جو مختلف فرقوں، گروہوں اور قومیتوں کے لوگوں کو ایک قوم بنا سکے“

اردو ہماری قومی زبان

اردو زبان ہندوستان میں مسلمانوں کے شاندار اور تابناک ماضی کی آئینہ دار بھی تھی اور پاکستان میں مسلمانوں کے روشن مستقبل کا اظہار بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قائد کے فرامین کی روشنی میں اس زبان کو اس کا جائز مقام اور اہمیت دی جائے۔ قائد اعظم نے مختلف مواقع پر اردو زبان کی اہمیت، افادیت اور اس کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے جو ارشادات فرمائے ان میں سے چند فرمودات باالترتیب ہیں
1942ء میں قائد اعظم کا پہلا بیان ”پاکستان مسلم انڈیا“ کے دیباچے میں یوں لکھا گیا ہے کہ ”پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی“ قائد نے 10 اپریل 1946ء کو آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس دہلی میں فرمایا کہ ”میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی“
24 مارچ 1948ء کے چوتھے بیان میں قائد اعظم نے فرمایا
”اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو ان کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو اور صرف اردو ہے“۔

خود دار اور باوقار قومیں ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی زبان کو اپنے سینے سے لگا کر رکھتی ہیں اس کی قدر کرتی ہیں اور اس پر فخر کرتی ہیں۔ اپنی زبان و تہذیب کی وجہ سے احساس کمتری میں مبتلا ہونا یا بیرونی دنیا سے کٹ کر الگ تھلگ ہونے کا احساس انہیں اپنی ثقافت اور زبان سے بے رخی اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ دنیا میں جن اقوام نے ترقی کے مدارج تیزی سے طے کیئے ہیں سبھی نے اپنی ثقافت اور قومی زبان کو فوقیت دی ہے۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ انگریزی زبان اور بیرونی دنیا سے رابطے کی دیگر اہم زبانوں کی اپنی جگہ اہمیت و افادیت ہے جسے قائم رہنا چاہیئے تا کہ بین الاقوامی معاملات اور علوم و فنون پر دسترس حاصل کرنے میں ہم دنیا سے پیچھے نہ رہ جائیں لیکن ہماری اپنی قومی زبان کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ موجود ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں چینی اور انگریزی کے بعد اردو تیسری بڑی عالمی زبان اردو ہی تو ہے۔ اردو کو مسلمانوں کی زبان اس لیئے کہا اور سمجھا گیا کیوں کہ مسلمان بادشاہوں، سپاہیوں اور اہل علم و فن کی ہندوستان آمد ہی اردو کی ابتداء کا سبب بنی۔ یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے 1948ء میں ڈھاکہ جلسہ عام میں فرمایا کہ

”میں واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہی ہو گی۔ جو شخص آپ کو اس سلسلے میں غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کر وہ پاکستان کا پکا دشمن ہے۔ ایک مشترکہ زبان کے بغیر کوئی قوم نہ تو پوری طرح متحد رہ سکتی ہے اور نہ ہی کوئی کام کر سکتی ہے“اردو زبان میں پوری پاکستانی قوم کی روح موجود ہے۔

اردو زبان کی تاریخی حیثیت

1867 ء میں بنارس سے اردو ہندی تنازعہ سے سر اٹھایا جس نے سرسید کے خیالات میں انقلاب پیدا کر کے مسلمانوں کی سیاست کا رخ متعین نیا جو کم و بیش اگلے اسی سال تک چلتا رہا۔ اردو زبان اس سرزمین کی اسلامی حکومت کی یادگاروں میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ زبان کہاں سے شروع ہوئی اس کے متعلق متعدد نظریات موجود ہیں آج کل یہ مقبول زبانوں میں شامل ہے اس کے بولنے اور سمجھنے والے دنیا کے ہر حصے میں پائے جاتے ہیں۔

دستوری اور تاریخی حقائق کے باوجود مقتدر قوتیں پاکستان میں قومی زبان کو نافذ کرنے کی بجائے استعماری زبان نافذ کیئے ہوئے ہیں انہیں نہ تو دستور شکنی کی پرواہ ہے نہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا پاس ہے اور نہ ہی عوامی امنگوں کا خون کرنے پر کوئی شرمساری۔ ہندوؤں کو اردو سے چڑ تھی وہ اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر تلے بیٹھے تھے۔ اس مہم کی ابتداء بنارس سے ہوئی جب انگریزوں نے یہاں رائج سرکاری زبان فارسی کو ختم کر کے انگریزی نافذ کی تو اردو کے مقابلے میں ہندی کو لا کھڑا کیا جو اپنی اصل میں اردو ہی تھی مگر اس کا رسم الخط تبدیل کر کے اردو کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔

سرسید اس وقت بنارس میں ہی مقیم تھے وہ اس پر سخت پریشان ہوئے۔ وہ اردو کو مسلمانوں کی قومی زبان خیال کرتے تھے اور اسے مسلمانوں کے ثقافتی ورثے کی ایک قیمتی متاع کہتے تھے۔ انہوں نے اخباری سطح پر ہندی کے حامیوں سے بہت سے مباحثے کیئے اور ان کے دلائل کے مسکت جواب دیئے۔ پہلے 1880ء اور پھر 1882ء میں وائسرائے کی حکومت نے ایجوکیشن کمیشن قایم کیا تو ہندوؤں نے اردو ہندی تنازعے کو کمیشن کے سامنے پیش کیا ان کا دعویٰ تھا کہ اردو کا رسم الخط اجنبی زبان کے رسم الخط کی طرح پیچیدہ ہے اس خط میں جعل سازی کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ حکومت نے 1900ء میں اردو کے خلاف جو فیصلہ دیا تھا وہی مسلم لیگ کی تاسیس کا اولین محرک تھا۔ مولوی عبدالحق کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ پاکستان کی پہلی اینٹ جس نے رکھی وہ اردو زبان ہی ہے۔ اردو ہندی تنازعہ آزادی تک جاری رہا۔

1937ء کے بعد گاندھی ہندی کے پرجوش حامی بن گئے انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے کیوں کہ یہ قرآن مجید کے حروف تہجی میں لکھی جاتی ہے۔ چاہے تو مسلمان اس زبان کو رکھیں چاہیں تو ترک کر دیں۔ قومی زبان اردو کے نفاذ کا فیصلہ 25 فروری 1948ء کو پہلی دستوریہ کے قائد اعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا تھا اور پوری اسمبلی نے اس کی تائید کی تھی۔ 1973ء کے دستور میں بھی اردو کو قومی زبان قرار دیتے ہوئے حکومت کو اگلے پندرہ سال کی مہلت دی گئی کہ اس مہلت کے دوران تمام دفتری اور تدریسی مواد اردو میں منتقل کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے قومی زبان کے نفاذ کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہوئے اس کے فورینفاذ کا حکم دیا مئی 2019ء میں سینٹ نے نفاذ اردو کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی۔

قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اردو کو کبھی تانگے والے کی اردو اور کبھی بمبئی والوں کی اردو کہا کرتے تھے قائد اعظم کے پرائیویٹ سیکرٹری مطلوب الحسن سید کا بیان ہے کہ جب میں 1940ء میں ان کا پرائیویٹ سیکرٹری بنا تو انہوں نے مجھ سے اردو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ”تم لکھنو والا ہے اس لیئے ہم تم سے اردو بولا، لیکن کام تم انگلش میں کرے گا“ جولائی 1938ء میں دہلی پراونشل مسلم لیگ کے جلسے سے انہوں نے ٹھہر ٹھہر کر تقریباً پندرہ منٹ تک اردو میں خطاب کیا۔

یکم اکتوبر 1938ء میں سندھ صوبائی لیگ کانفرنس میں انہوں نے کانگریس کی صوبائی حکومتوں کے مسلم دشمن اقدامات کی مخالفت کی اور فرمایا ”اردو ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی مادری زبان اور ہندوستان بھر میں رابطے کی زبان ہے۔ اس لیئے اس کی حفاظت ہمارا قومی فرض ہے۔ ہم اردو کے خلاف اقدامات کو اسلام، مسلم ثقافت اور ادب کے خلاف اقدامات تصور کرتے ہیں“ 17 مارچ 1939ء کو قائد اعظم محمد علی جناح علی گڑھ سے واپسی پر بریلی پہنچے تو نہ صرف ریلوے سٹیشن پر ان کا شاندار استقبال کیا بلکہ رات کو ایک جلسے میں انہوں نے اردو میں خطاب بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ انگریز کیا چاہتا ہے؟ ہندو کیا چاہتے ہیں؟ انگریز چاہتا ہے کہ ہندو اور مسلمان آپس میں لڑتے رہیں اور وہ حکومت کرتا رہے۔ ہندو یہ چاہتے ہیں کہ انگریز کے زیر سایہ مسلمانوں پر ہماری حکومت قائم رہے۔ اور مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ ہم نہ ہندوؤں کے غلام بنیں نہ انگریز کے۔ بلکہ ہندوستان میں ایک آزاد قوم کی حیثیت سے اپنا وجود قائم رکھیں۔

25 مارچ 1939ء کو مسلم لیگ کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے قائد اعظم نے اردو میں مختصر خطاب فرمایا۔ جس میں کانگریس کی سیاست کو دھوکہ دہی کی سیاست قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ وہ کانگریس کے جال سے ہوشیار رہیں۔
یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بانی پاکستان اردو کو پاکستان میں بحیثیت قومی زبان رائج کرنا چاہتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی انہوں نے قومی زبان کے طور پر اردو کے نفاذ پر زور دیا ۔ یہ موضوع اپنے اندر بہت وسعت رکھتا ہے اور اس بات کا متقاضی ہے کہ نہ صرف ہندوستان کے تاریخی پس منظر میں بحیثیت زبان اردو کا جائزہ لیا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ اردو دشمنی نے کس طرح متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کے لیئے ذہن سازی کی۔ اردو زبان کی اہمیت کیا ہے اس زبان کا قومی زبان کے طور پر نفاذ کیوں ضروری ہے؟

ان سوالات کا جواب ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی ایک تقریر کے اقتباس سے ملتا ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ”کوئی بھی قوم ایک قومی زبان کے بغیر ملکی سالمیت اور فکری یکجہتی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی“ زبان کسی قوم کے افتخار کا نشان ہوتی ہے۔ اردو میں صرف تاریخی سرمایہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک جدید ترقی یافتہ زبان ہے اس میں لچک اور وسعت موجود ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اردو نے مقامی اور بدیسی زبانوں کے الفاظ اپنے معنوں، مزاج اور لہجے میں ڈھال کر قبول کیئے اور اپنے اندر ضم کیئے۔ گویا کہ یہ زبان کائنات کی طرح مسلسل پھیلتی جا رہی ہے اس میں جدید علوم و فنون کے مکمل ابلاغ کی پوری صلاحیت موجود ہے۔

سلیقے سے ہواؤں میں جو ثشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

جنوری 1938ء میں مسلم لیگ کلکتہ کے ایک جلسے میں کانگریسی ذہنیت کا پردہ چاک کرتے ہوئے قائد نے کہا کہ اگر ہم کو برصغیر میں اپنے وجود کی پائیداری اور ضمانت درکار ہے تو ہم کو اردو کے تحفظ کے لیئے جدو جہد کرنا ہو گی۔ اسی سال صوبہ بہار کے شہر گیا میں ایک پرہجوم اجتماع سے انگریزی میں خطاب کرنے کے بعد کہا کہ میں اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں بھی آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں کیوں کہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں آپ سے آپ کی زبان میں بھی بات کروں اس تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ اردو اور اسلام ہم کو متحد و منظم کر سکتے ہیں

5/5

https://youtu.be/USLWUZ2PCCQ

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

One thought on “اسلام اور اردو مسلم اتحاد کے بنیادی عناصر ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Previous post ذہنی غلامی کے خاتمے اور قومی ترقی کیلئے اردو زبان کا نفاذ وقت کی ضرورت
Next post اردو مسلمانوں کے روشن مستقبل اور تابناک ماضی کی آئینہ دار
Translate »