Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:7 Minute, 30 Second
ماریہ خاتون ۔ بی ایس سی ، یونیورسٹی آف چکوال

زبان اللہ تعالی کی اک ایسی نعمت ہے جو ہمیں اس قابل بناتی ہے کہ ہم دوسروں کی باتوں کو سمجھ سکیں اور انکو اپنی بات سمجھا سکیں پوری دنیا میں مختلف زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں ہماری قومی زبان اردو ہے جو دنیا کی نویں بڑی زبان ہے
دور غلامی میں انگریزوں نے معاشی ضرورت کے تحت اردو کو دفتری زبان قرار دیا تھا کیونکہ وہ مطلب پرست قوم جانتی تھی کہ یہ زبان پورے برصغیر میں سمجھی جاتی ہے

قیام پاکستان کے وقت بھی قیام کا اعلان اردو زبان میں ہوا تھا تاکہ ہم انگریز و ہندو قوم کو یہ باور کرا سکیں کہ ہم ہر لحاظ سے آزاد قوم ہیں ہمارے محترم قائد نے اردو زبان کو قومی زبان کہا ھے حالانکہ کہ وہ معاشی ضرورت کے تحت انگریزوں سے انگریزی میں بات کرتے تھے لیکن انگریزی کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہیں بنایا تھا

اردو زبان کیوں بطور قومی زبان اور اسکا نفاذ کیوں ضروری ہے اس حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح کی ایک تقریر سے اقتباس ہے کہ” کوئی بھی قوم قومی زبان کے بغیر ملکی سالمیت اور فکری یکجہتی تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی”

وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ زبان کسی قوم کے وقار کسی انسان کی شخصیت کا اظہار کسی قوم کی ثقافتی علمی و ادبی سرمایہ ہوتی ہے یہ اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ ہم اپنی زبان کا استعمال کیسے کرتے ہیں.
ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا ہمیں صرف انگریزی کے بھاری بھاری لفظ استعمال کرنے کی صلاحیت ہے یا پھر ہم اس چیز پہ بھی گرفت رکھتے ہیں کہ اپنی زبان بولتے ہوے ہم نے کونسے الفاظ استعمال کرنے ہیں وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر کوئی قوم زبان سے انحراف کر کے ترقی کی راہیں ڈھونڈے گی تو وہ راہ اسے کبھی میسر نہیں ھوگی .کیونکہ یہ سمجھ لیں کہ اسے ماں کی گود (اردو زبان) ہی نہیں ملی اسے پہلی درسگاہ ہی نہیں ملی تو پھر وہ کامیاب کیسے ہوسکتا ہے

گزشتہ چار سوسال میں اردو زبان نے بےشمار الفاظ اور لہجوں کو اپنے اندر ضم کیا ہے گویا اس زبان میں اتنی لچک اور وسعت ہے اور ہم جیسی قوم اس کی قدر کم کیے بیٹھے ہیں اگر انسان پیدائشی مسلمان ہو تو اسے دین کی قدر نہیں ہوتی اور اگر پیدائشی آزاد ہو تو اسے آزادی کی قدر نہیں ہوتی اب ہمیں ہی ہی لے لیں ہم اپنی آزادی اپنی جان کی مال کی اپنی عزتوں کی اہنے وقار کی اپنی زبان کی قدر نہیں کرتے کیوں کہ یہ ہمیں ہمارے عظیم آباو اجداد اپنی جانوں کے نذرانے کی صورتوں میں دے گئے ہیں تو ہم کیسے قدر کرسکتے ہیں جانیں تو انکی گئی ہیں

 

یہ بھی پڑھیں

اس قربانیوں سے حاصل ہوے ملک کو تقریبا ۷۴ برس بیت چکے ہیں اور ہم آگے جانے کی بجاے دور جاہلیت میں جارہے ہیں دور غلامی میں جارہے ھیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم ترقی کر رہے ہیں اگر کسی کی زبان بولنا اور اپنی زبان پہ شرم محسوس کرنا ترقی ہے تو پھر انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی یہ تو وہ ہی بات ہوگی کہ زمانہ جاہلیت میں انسان ننگا تھا اور جب وقت کے ساتھ انکو شعور آیا تو انہوں نے پتوں سے جسموں کو اور پھر لباس سے جسموں کو ڈھانپ لیا اور یہ تھی حقیقی ترقی لیکن اگر آزادی سے پھر غلامی اور اپنی زبان کی بجاے دوسروں کی ہی زبان ہی بولنی ہے تو یہ ترقی چہ معنی دارد؟

کہتے ہیں کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا ہماری بھی یہ ہی بات ہے ہم دوکشتیوں کے مسافر بن گئے گر یہ ہی حال رہا تو بہت جلد ہم نے درمیان میں ڈوب ہی جانا ہے

دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی بھی ایسی قوم نہیں ہے جنہوں نے دوسری زبانوں کے ذریعے آزادی حاصل کی ہو اب اپنے پاکستان کو دیکھیں جو اب صرف نام کی ہی پاک رہ گئی ہے ورنہ ہم نے اس میں ہر طرح کی گندگی پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے جب ہمارے آباو اجداد نے اسے حاصل کیا تھا تو اردو زبان کے ذریعے ہی.

یہاں تک کے مطلب کے لیے ہی سہی انگریزوں نے اس کی بڑائی تسلیم کی اوراسے دفتری زبان بنایا تا کہ ہماری ترقی ہو اوروہ قوم ہماری زبان سے مطلب نکالتی رہی اور آج وہ اپنی زبان کو پوری دنیا میں رائج کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم انکے ذہنی غلام بن جائیں پہناوے میں رسم و رواج میں تو بن ہی چکے ہیں زبان بھی ہم اب انکی بولیں جو کہ ہم اب پوری طرح کوشش کرتے ہیں تو کیوں نہ ہم باقاعدہ پھر انکے ہی غلام بن جائیں تاکہ ہمیں تسلی ھو کہ ہممکمل غلام ہیں صرف ذہنی غلامی کا کیا فائدہ.

جب اللہ نے قرآن کو عربی زبان میں اتارا تو اسے عجمیوں میں کیوں نہیں اتارا اس لیے کیونکہ اسکی سمجھ اسکی پہچان عرب والے ہی کرسکتے ہیں عجمیوں کو اسکو سمجھنے میں اور سیکھنے میں بہت وقت چاہیے ہوتا ہےاسی طرح ہر قوم ہر ملک اپنی زبان کی قدر کرتا اور سمجھتا سمجھاتا ہی اچھا لگتا ہے کیوں کہ اللہ تعالی ہر قوم کو اسکے حساب سے زبان عطا کرتا ہے اوراسی کے سبب ترقی ممکن ہےاور ہم ہیں کہ انگریزی کو لپیٹتے ہی جارہے اپنے اوپر…

ہم ویسے تو بڑے قائد کے نام کے نعرے لگاتےہیں پارک ہوں اسپتال ھوں یا سکول کالج نام ہم قائداعظم کے نام پہ رکھیں گے لیکن قائد اعظم کے فرامین کے متعلق سرکری زبان کی خلاف ورزی کرتے ہیں انہوں نے اردو زبان کا رائج اسلیے چاہا تھا تاکہ ہر عمر کا شخص یہ زبان سمجھ سکے نا کہ ہم منہ ٹیڑھا کرتے رہیں اور سمجھنے والے منہ اٹھا کے بیٹھے رہیں قائد اعظم کی سوچ صرف اس دور تک محدود نہیں تھی بلکہ آنے والی نسلوں کے بارے میں بھی سوچتے تھے

آج کے دور کا انسان سیاست و ثقافت میں انگریزی زبان سے نابلد ہونے کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کو دبا کے بیٹھے رہتے ھیں حالانکہ قائد نے اسی وجہ سے ہمیں آزادی دلوائی تھی کہ ھم اپنی خداداد صلاحیتوں کو اپنی زبان کے ذریعے بروےکار لا سکیں افسوس اس زمانے سے لے کے آج تک قائد کے تصور پاکستان کو مشکوک بنا دیا گیا

امریکہ اور برطانیہ اپنے سامراجی مفادات کے باعث نہیں چاہتے کہ پاکستان اک مکمل آزاد اور خودمختار ہو اسی لیے اپنے گندی سوچ گندی ثقافت اور اپنی زبان تک کو بھی خوبصورتی میں لپیٹ کر ہمیں پیش کر رہے اور ہم بھی چمکتی چیز سمجھ کے اپنا رہے قائد کے اس وقت کے بناے گے قوانین سے ہم آج تک انحراف کرتے آئے ہیں جسکی بدولت ہم کافی نقصان اٹھا چکے ھیں

قائد اعظم پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی کے خواہش مند تھے اگر اس پر عمل کیا جاتا تو آج پاکستان ایک مکمل طور پر ترقی یافتہ اور مکمل ریاست کے طور پر ہوتا وہ چاہتے تھے کہ ایک زبان کے ذریعے ہم ایک قوم بنیں تاکہ کوئ زبان کے ذریعے عوام کا استحصال نہ کرسکے.

آج صورتحال یہ ھے کہ سپریم کورٹ قومی اردو زبان کے نفاذ کا فیصلہ دے چکی ہے لیکن ابھی تک کوئ عملی قدم نہیں اٹھایا گیا قائد نے واضح طور پر کہا تھا کہ میں آپکو صاف صاف بتادوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ھوگی اردو کے سوا کوئ نہیں جو آپکو گمراہ کرتا ھے وہ محض آپکا دشمن ھے ایک مشترکہ قومی زبان کے بنا ایک قوم کبھی نہیں متحد ھوسکتی یہ مثال ہی لے لیں جب مسلمان ایک مذہب ہونے کی بنا پہ ایک الگ ریاست لے سکتے ہیں( پاکستان) تو پھر ایک ھی زبان ھوگی تو تب ھی وہ ریاست چل بھی پاے گی

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان کس طریقے سے بنا سکتے ہیں تو میں یہ کہنا چاہوں گی کہ ہر طبقے کے لوگ جن میں غریب ، مزدور اور کسان جن کے کندھوں پہ پاکستان چل رہا ہے ان سب کو منظم اور باشعور کیا جاے اور انہیں اپنی زبان پر مکمل اعتماد کرنا سکھایا جاے اور امیر طبقے کو بھی اپنی زبان کی اہمیت سے آگاہ کیا جاےاور اردو زبان کا نفاذ کرکے پاکستانی نظام کو قائد کے پیش کیے گئے نظام میں تبدیل کریں کیونکہ اس کے بنا پاکستان کبھی ترقی نہیں کر پاے گا آخر میں بس یہ کہنا چاہوں گی کہ..

کہنے کو اک زباں ہوں
بزرگوں کی داستاں ہوں
دیکھو تو کچھ نہیں ہوں
سمجھو تو اک جہاں ہوں

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Previous post دنیا کی کوئی قوم اپنی زبان کے بغیرترقی نہیں‌کرسکتی تو پاکستان کیلئے یہ کیسے ممکن؟
Next post مغربی تہذیب کی یلغار سے بچنے کے لیئے اردو کا نفاذ‌ناگزیر
Translate »