0 0
Read Time:5 Minute, 44 Second
آصف اقبال انصاری،

انسانی زندگی میں زبان کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ زبان ہی انسان کے مافی الضمیر کے اظہار کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ زبانوں کے اختلاف کو اللہ رب العزت نے اپنی نشانیوں میں شمار کیا ہے اور زبان صرف اظہار کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ ایک قوم کی تہذیبی شناخت اور اس کے تشخص میں بھی ایک موثر کردار ادا کرتی ہے۔

دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی قوم ایسی نہیں ملتی جن کی ترقی و کامیابی کے راز کے پیچھے کسی بدیسی زبان کا سہارا ہو۔ ہر قوم اپنی قومی زبان میں ہی عروج کا راستہ طے کرتی ہے۔ اقوام عالم میں ترقی یافتہ قومیں جن میں چین، ایران اور جرمنی وغیرہ ایسے ممالک ہیں جو اپنی قومی زبان کے سبب ہی آج ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نظر آرہے ہیں۔ دنیا بھر میں بے شمار زبانیں بولی جاتی ہیں، بعض زبانیں اپنے بعض علاقوں تک ہی محدود نہیں رہتیں،بلکہ اپنے مخصوس علاقوں کے ساتھ کئی ریاستوں اور علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ان زبانوں کو "عالم گیر زبان”کہا جاتاہے۔

اسی طرح بعض زبانیں مخصوص علاقوں تک ہی محدود ہوتی ہیں اور وہ مخصوص افراد کے درمیان بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ان کو "قومی زبان "کہتے ہیں۔ ہر ریاست و ملک کی اپنی ایک خاص زبان ہوتی ہے اور قومی زبان ہی ان کی تعلیمی اور سرکاری زبان ہوتی ہے اور ایک غیرت مند قوم کے لیے ان کی قومی زبان فخر کا باعث ہوتی ہے نہ کہ شرمندگی کا!

اگر بات کی جائے پاکستان کی قومی زبان کی تو اس سلسلے میں سب سے واضح اور دو ٹوک پیغام، بانی پاکستان "قائد اعظم محمد علی جناح” کے بے شمار فرامین و اقوال کی صورت میں موجود ہیں۔قائد اعظم نے مختلف مواقع پر اردو زبان کی اہمیت سے متعلق جو ارشادات فرمائے ان میں سے چند فرامین ملاحظہ ہوں۔
پہلا خطاب1942ء میں:
"پاکستان کی زبان صرف اردو ہوگی۔”
دوسرا خطاب19اپریل 1946ء بمقام آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس دہلی میں:
"میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان صرف اردو ہوگی۔”
تیسرا خطاب 21مارچ1948ء بمقام ڈھاکہ:
” میں آپ کو واضح طور پر بتادینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان "اردو” ہوگی اور صرف اردو، اس کے علاوہ کوئی اور زبان نہیں ہوگی۔ دیگر اقوام کی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہوسکتی اور نہ کوئی اور کام کرسکتی ہے۔ پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے، وہ صر ف اور صرف اردو ہی ہوگی۔”
چوتھا خطاب 24 مارچ 1948ء میں:
"اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو ان کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو اور صرف اردو ہوگی۔”

یہ بھی پڑھیں

اردو تمام پاکستانیوں کے مابین اتحاد کی علامت اور ذریعہ ہے

ایک قومی زبان کے بغیر قوم وجود میں نہیں آ سکتی

اردو مسلمانوں کے روشن مستقبل اور تابناک ماضی کی آئینہ دار

اسلام اور اردو مسلم اتحاد کے بنیادی عناصر ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح

25فروری 1948ء ،جب بنگالی اراکین کی اکثریت نے اردو کے حق میں ووٹ دیا

قائد اعظم کے مذکورہ بالا تمام فرامین جہاں اردو کے قومی اورسرکاری زبان ہونے کا فیصلہ دے رہے ہیں، تو وہیں دوسری طرف اس بات کی طرف ایک پوشیدہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ قوم میں اتحاد و یگانگت کا بنیادی حل سرکاری اور قومی زبان کا استعمال اور نفاذ میں ہے۔ غیر سرکاری اور غیر قومی زبان میں نہ تو کوئی قوم متحد ہوئی ہے اور نہ ہوسکتی ہے اور نہ اس طر ح کوئی قوم پروان چڑھی ہے اور نہ چڑھ سکتی ہے۔

ان تمام بیانات اور فرمودات کے بعد اردو زبان سے متعلق اگر ذاتی طور پر قائد کے تصور کی بات کریں تو تصور ِ قائد میں صرف "اردو ” نظر آتی ہے۔ چناں چہ 1934ء میں قائد اعظم نے مسلم لیگ کی انتخابی مہم کے لیے جو دستور ترتیب دیا تھا اس کے دفعہ ۱۱ میں واضح طور پر لکھا تھا کہ ا ردو زبان اور رسم الخط کی حفاظت کی جائے گی اور صرف یہی نہیں، قائد اعظم اردوپر خاصی دست رس نہ رکھنے کے باوجود جب انتخابی مہم کے دوران جلسہ عام سے مخاطب ہوتے تو ابتدا اور انتہا میں اردو کے چند جملے ضرور اپنی زبان سے ادا کرتے تھے۔

آزادی سے قبل جب کانگریس نے "ہندی ہندوستان”کی مہم چلائی تو اس وقت بھی 1935ء میں قائد اعظم نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا تھا:” اس اسکیم کا اصل مقصد اردو کا گلا دبانا ہے۔”بعدا زاں سن 1938ء پنڈت لال جواہر نہرو کو کسی بات پر جوا ب دیتے ہوئے کہا کہ "اردو ہماری عملا ً زبان ہے، ہم آئینی ضمانت چاہتے ہیں کہ اردو کے دامن کو کسی طرح بھی متاثر نہ کیا جائے۔”بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی،جب قیام پاکستان کاوقت قریب آنے لگا تو 1946ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں ایک مرتبہ”سر فیروزخان”انگریزی میں تقریری کرنے لگے تو ان کو ٹوکتے ہوئے فرمایا: "پاکستان کی سرکاری زبان صرف اردو ہوگی۔”

ان تمام تفصیلات کے بعد اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بانی پاکستان قائداعظم ؒ کی نظرمیں اردو کی اہمیت پاکستان بننے سے قبل بھی تھی اور پھر قیام پاکستان کے بعد تو نہایت ہی واشگافانہ اندازمیں اپنے کئی خطابات میں اردو کی اہمیت کو واضح کیا۔

اب آئیے! ذرا آئین پاکستان کو دیکھتے ہیں۔ ملکی اور سیاسی حالات کو اگر دیکھیں تو ہر طبقہ اور جماعت، آئین کی خلاف ورزی پر ایک شور اور ہنگاما بر پا کرتاہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سزا پر مصرّ ہوتا ہے۔لیکن یہ جذبات اردوسے متعلق آئین کی خلاف ورزی میں ماند پڑ جاتے ہیں۔پاکستان کے آئین کے شق نمبر 251 میں واضح طور پر در ج ہے کہ:”پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور اور تاریخ اجرا سے پندرہ سال کے عرصے کے اندر سرکاری اور دیگر مقاصد کے لیے اس کے استعمال کا انتظام کیا جائے۔”

مذکورہ تمام تر تفصیلات کے بعد،بس اب ہر خاص و عام سے سوال یہ ہے کہ بانی پاکستان کانام لیتے اور یوم قائد مناتے وقت قائد کی باتیں کیوں یاد نہیں رہتیں؟ذراضمیر سے پوچھیں تو سہی! کیا اپنے قائد کے ساتھ یہ اندازمحبت قابل قبول ہے؟ کیا قائد کا نام لے کر فرامین و اقوال کو پس پشت ڈالنا یہ محض ایک دکھاو ا نہیں؟پھر آئین پاکستان کے واضح حکم کے بعد پندرہ سال سے زائد عرصے کے بیت جانے کے باوجود تمام اداروں، بالخصوص ریاستی اداروں میں اس کے نفاذ سے پہلو تہی یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں؟کیا اس کو آئین پاکستا ن سے بغاوت کی فہرست میں شمار کریں گے یا نہیں؟ ذرا سوچیے!!

5/5

https://youtu.be/QZbjYF5frsQ

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »