زمرہ دوم ، موضوع : قائد اعظم کا تصور قومی زبان

منیبہ مختار

اردو ہندی تنازعہ ہو یا اردو بنگالی قائد اعظم ہر محاذ پر اردو کے نفاذ کے لیے پر عزم رہے اور جدو جہد کی۔ وہ اردو جسے آجکل کے شہری سستی زبان سمجھتے ہیں اسے ہم تک پہنچانے والوں نے بہت سے مصائب کا سامنا کیا تھا کیونکہ ان کے نزدیک اردو ایک گوہر تھا جس کی ہم ناقدری کیے ہوئے ہیں۔اردو جس نے مسلمانوں کے دور حکومت میں جنم لیا تھا جو کہ برصغیر کی مختلف بولیوں ترکی،عربی اور فارسی کے آمیزے سے تیار ہوئی تھی چونکہ اس میں زیادہ آمیزہ مسلمانوں کی زبان ترکی عربی اور فارسی کا تھا اس لیے جلد ہی یہ مسلمانوں کی زبان کے طور پر مشہور ہو گئی۔ ہندوؤں کی سازش تھی کہ اردو کی جگہ ہندی کو دے دی جائے۔

انہیں زیادہ اعتراض اُردو سے نہیں بلکہ اردو کو مسلمانوں کی پہچان بن جانے پر تھا لہذا ہندوؤں کا پہلا ناپاک مطالبہ یہ تھا کہ اردو میں سے عربی،فارسی اور ترکی کے لفظ ہٹا کر سنسکرت کے الفاظ شامل کیے جائیں تاکہ یہ زبان مسلمانوں کے لیے مخصوص نا بن سکے۔

اردو مسلمانوں کی خاص پہچان اور اثاثہ تھی اور اس اثاثہ کو بچانے کے لیے بابائے قوم قائد اعظم سمیت اہم شخصیات نے جدوجہد کی۔اثاثہ کے علاوہ بھی قائد اعظم نے اردو کو مسلمانوں کے اتحاد کا سب سے بڑا سبب جانا اس لیے وہ اس اتحاد کو ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے۔جیسے ہر باپ اپنی اولاد کو متحد اور کامیاب دیکھنا چاہتا ہے ویسے ہی بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح بھی اپنی قوم کو متحد اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے تھے۔

ان کی اپنی تعلیم انگریزی میں ہوئی تھی گھر سے ملنے والی زبان گجراتی تھی اور اردو کچھ خاص نا تھی لیکن انہوں نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کی یکجہتی اور ترقی صرف اردو زبان کے نفاذ سے ہی ممکن ہے۔اس لیے انہوں نے صرف اپنی قوم کے لیے خود بھی اردو بولنے کی کوشش کی۔

قائد اعظم نے اپنی پہلی اردو تقریر بنگال میں کی۔ تقریر شروع ہونے سے پہلے آپ نے عزیز الحق جو آپ کے ہمراہ تھے پوچھا کہ اس مجمع میں کتنے لوگ انگریزی سمجھتے ہونگے؟ انہوں نے جواب دیا کہ کم و بیش پانچ سو، پھر آپ نے پوچھا اردو جاننے والے کتنے ہونگے؟ انہوں نے بتایا تقریباً ڈیڑھ ہزار۔ اس کے بعد عزیزالحق نے آپ سے کہا کہ آپ انگریزی میں تقریر فرما دیں میں اس کا ترجمہ بنگالی میں سنا دوں گا (ایسا انہوں نے شاید اس وجہ سے بھی کہا ہو گا تاکہ قائد اعظم کو تقریر کرنے میں دقت محسوس نا ہو کیونکہ آپ اردو سے کہیں بہتر انگریزی سمجھتے اور بولتے تھے)لیکن بابائے قائد نے ان کا مشورہ نہ مانا اور بنگالی اور انگریزی کو ایک طرف رکھ کر اردو میں تقریر کی۔

اس واقعہ کو قائد اعظم نے خود مولوی عبد الحق سے تفصیلی طور پر بیان کیا اور مولوی عبد الحق نے اس تفصیلی واقعہ کو اپنے قلم سے تحریر میں محفوظ کر لیا۔جسے میں نے یہاں مختصراً بیان کیا ہے۔

مولوی عبد الحق کو بابائے اردو بھی کہا جاتا ہے جب گاندھی اردو کی جگہ ہندی کو دینے کے لیے جدو جہد کرنے لگا تو مولوی عبد الحق نے انجمن ترقی اردو کا دفتر اورنگ آباد سے دلی منتقل کر دیا اور وہاں اردو کو فروغ دینے لگے جب مولوی عبد الحق نے اردو کی خاطر گاندھی سے ٹکر لی تو وہ بابائے اردو کہلانے لگے۔اگر دیکھا جائے تو اردو کے اصل ہیرو مولوی عبد الحق ہی ہیں۔

مسلمانان برصغیر کے اتحاد کا سب سے بڑا ذریعہ اردو تھی، یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے قیام پاکستان کے فورا بعد واضح کردیا تھا کہ، پاکستان کی قومی زبان صرف ایک اور وہ اردو ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

ہندوؤں کی ناپاک کوشش تھی کہ کسی طرح مسلمانوں کی شناخت کو ختم کر کے انہیں اپنے رنگ میں رنگ لیا جائے وہ مسلمانوں کو ان کی اسناد اور ان کے اثاثہ جات سے محروم کر دیا جائے۔اس مقصد کے لیے ایک طرف کو بھگتی اور دین الٰہی جیسی تحریکیں چلائیں گئیں جو متحدہ قومیت کی علمبردار تھیں اور ان کا بنیادی مقصد ہندو مسلم تضاد کی نفی کرنا تھا۔دوسری طرف شدھی اور سنگھٹن جیسی پرتشدد تحریکیں چلا کر مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کی کوشش کی گئی۔

ہندوؤں نے مل کر یہ کوشش شروع کر دی کہ اردو رسم الخط کی جگہ دیوتا گری رسم الخط کو دے دی جائے اس کا مقصد صرف اور صرف اتنا تھا کہ مسلمان اپنے ماضی سے کٹ کر اپنے سرمائے،اپنے علم اور اپنے ادب سے یکسر محروم ہو جائیں۔اس کے علاوہ میری سوچ یہ بھی کہتی ہے کہ چونکہ اردو مسلمانوں کی یکجہتی کی بڑی وجہ تھی اور یکجہتی فتح،کامیابی کی علامت ہوا کرتی ہے لہذا ہندو مسلمانوں کا اتحاد توڑ کر ہی انہیں ناکام کر سکتے تھے۔مسلمانوں کو ناکام کرنے کے لیے انہوں نے اردو ختم کر کے مسلمانوں کا اتحاد توڑنا چاہا تاکہ انہیں شکست دینا آسان ہو جائے۔

قیام پاکستان کے بعد جب کچھ عناصر نے اردو کی بجائے بنگالی کو قومی زبان کے طور پر رائج کرنے کا نعرہ لگایا تو قائد اعظم نے نہایت سختی کے ساتھ اس رویے کی مخالفت کی۔ انہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں فرمایا کہ پاکستان کی قومی، سرکاری اور دفتری زبان اردو اور صرف اردو ہو گی۔

سقوط ڈھاکہ کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ اردو بنگالی تنازعہ بھی تھی۔ قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں اُردو کو پاکستان کی قومی زبان قراردیا جو پانچوں صوبوں میں رابطے کی واحد زبان تھی۔ مشرقی پاکستان کے ہندوؤں نے زبان کے مسئلے کو اُچھالا اور بنگالیوں میں اشتعال پیدا ہوا اور انہوں نے بنگالی زبان کو سرکاری زبان قرار دینے کانعرہ بلند کرتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا اور ہندوؤں کی وجہ سے مسلمانوں کا اتحاد ٹوٹ گیا۔

پاکستان کے ہر علاقے کے رہائشیوں کو ان کے علاقے کی زبان بولنے کی آزادی تھی لیکن قائد اعظم نے سرکاری زبان اردو کو قرار دیا تھا۔ اور آج بھی ملک میں کئی زبانیں بولی جاتیں ہیں چونکہ اردو کے بعد دوسری بڑی زبان بنگالی تھی اور ہندی زبان کی دال نہیں گلنے والی تھی لہذا ہندوؤں نے مشرقی پاکستان کو منتشر کرنا شروع کردیا۔ انگریزوں اور ہندوؤں نے ہر دور میں مسلمانوں کا اتحاد توڑنے کی ناپاک کوشش کی ہے اور مسلمانوں کئی ادوار میں کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمنوں کی باتوں میں اگئے۔

اور اب بھی ہمارا اتحاد نا ہونے کی بڑی وجہ ہماری پسماندہ سوچ ہے۔ ہم آزاد تو ہیں لیکن زہنیت پھر بھی غلامانہ ہے۔ ہم انگریزی بول کر خود کو بہت بڑا ترقی یافتہ سمجھتے ہیں اور اصل میں ہم اپنی ناکامی کی وجہ جانتے ہوئے بھی ماننے کو تیار نہیں۔بقول اکبر الٰہ آبادی:
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریز ی ڈ ھونڈلی قوم نے فلاح کی راہ
روشِ مغربی ہے مدِّنظر وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ

ہم انگریزوں کی زبان بول کر ہی ترقی کر سکتے ہیں، یہ جملہ غلامانہ سوچ کا محور نہیں تو پھر اور کیا ہے۔ قائد اعظم نے الگ وطن حاصل کر کے تمام تر غلامی کی زنجیروں کو توڑ دیا تھا جس میں ایک زنجیر ذہنی غلامی کی بھی تھی افسوس کہ ہم خود کو قائد سے زیادہ سمجھدار سمجھنے لگے جس کے نتیجہ میں ہمیں پستی اور ناکامی ملی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

ابھی تک پاؤں سے چمٹی ہے زنجیریں غلامی کی۔
دن آ جاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی

قائداعظم ؒ نے مارچ ۸۴۹۱ء کو قومی زبان کے حوالے سے ایک بیان دیا جس بیان کو سرکاری اعتبار سے فرمان کا درجہ حاصل ہے۔ جس میں قائد اعظم ؒ نے فرمایا:۔”اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو ان کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو اور صرف اردو ہے۔“

اس میں کچھ شک نہیں کہ ہم کتابوں،تحریروں اور ہر جگہ قائد اعظم کی ہر بات کو فرمان لکھتے ہیں۔اور یہ فرمان صرف لکھنے کی حد تک ہی ہے۔ عمل سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ کیا ہمارا فرض صرف اتنا ہی تھا کہ قائد اعظم کی وفات اور پیدائش کا دن بھرپور طریقے سے منا لیا جائے، ہر سال قائد اعظم پر نت نئے ملی نغمے لکھے اور پڑھے جائیں، مزار قائد پر چادر چڑھائی جائے، قائد اعظم نے پاکستان بنایا تھا صرف اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہیں خراج پیش کیا جائے، کیا بس یہی فرض ہے ہمارا؟ کیا ان کے فرمان کی کوئی حیثیت نہیں؟ کیا ان کا فرمان نہیں تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہے؟

قائد اعظم کی اپنی تعلیم انگریزی میں ہوئی تھی انہیں انگریزی بولنے میں کوئی دشواری نہیں بلکہ اردو سیکھنی پڑی تھی۔ انہوں نے صرف ہمارے لیے اردو کے نفاذ کی جدو جہد کی صرف اس لیے کہ اردو بولنے والوں کا طبقہ خاصا وسیع تھا اور اب بھی پاکستان میں اردو بولنے والوں اور سمجھنے والوں کے مقابلے انگریزی بولنے والوں کی تعداد انتہائی قلیل ہے لیکن پھر بھی ان پر جبری طور پر انگریزی مسلط کی جا رہی ہے یہ۔ اگر ہم تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے قائد اعظم کی مصلحت کو اپناتے تو ترقی میں خاصے کامیاب ہوتے۔

آخر میں ایک شعر ملک میں جبری انگریزی مسلط کرنے والوں کے نام:
کہ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

5/10
منیبہ مختار

منیبہ مختار

پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ایم اے پولیٹکل سائنس کی طالبہ ہیں

Translate »