0 0
Read Time:8 Minute, 42 Second
Muhammad Nabeel Haripur
محمد نبیل ہریپور

اردو مختلف زبانوں کا مجموعہ ہے۔ قائد اعظم کا تصور قومی زبان اردو ہی ہے۔ جو بنیادی طور پر ہندی، سنسکرت، عربی پشتو اور کچھ انگریزی زبانوں سے مل کر بنی ہے۔ مختلف شعراء، ادیبوں اور سوانح نگاروں کی زیر نگرانی اردو خوب پھلی پھولی۔ اسی لیئے اردو کو لشکری زبان بھی کہتے ہیں۔ اردو ہندوستان میں مسلمانوں کے روشن مستقبل کا واحد ذریعہ اور مسلمانوں کے تابناک ماضی کی آئینہ دار تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح دور اندیش راہنما تھے انہوں نے دو ٹوک انداز مں اردو زبان کی قومی و سرکاری اہمیت اور حیثیت کو سمجھا اور اسے اس کا جائز مقام دینے، اور اس کی افادیت کو تسلیم کرنے کے احکامات جاری کیئے۔

انہوں نے مستقبل میں اس زبان کے فکری و معنوی پھیلاؤ کو اپنی چشم تصور سے ملاحظہ کرتے ہوئے اسے پاکستان کی یگانگت، اتحاد، اور یکجہتی کی علامت قرار دیا۔ قیام پاکستان کے بعد جب کچھ عناصر نے اردو کی بجائے بنگالی کو قومی زبان کے طور پر رائج کرنے کا نعرہ لگایا تو قائد اعظم نے نہایت سختی کے ساتھ اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ پاکستان کی قومی سرکاری اور دفتری زبان اردو اور صرف اردو ہو گی اور وہی زبان پاکستانی عوام کی امنگوں کی ترجمان بھی ہے اور ان کے ثقافتی اور تہذیبی رویوں کی آئینہ دار بھی۔ اردو کی ترقی کے پیچھے شعراء اور ادیبوں کی قربانیاں ہیں بقول کاظم بنارسی

سودا و میر و غالب و اقبال دیکھ لو
ہر ایک پاسبان ہے اردو زبان کا
ترویج دے رہا ہے جو اردو زبان کو
بے شک وہ باغبان ہے اردو زبان کا

کسی قوم کی زبان اس کی تہذیب و ثقافت کی پہچان ہوتی ہے اقوام عالم میں قومی زبان ہمیشہ سے حساس موضوع رہا ہے۔ اکثر اقوام اپنی قومی زبان پر فخر کرتی ہیں اور یہ پختہ یقین رکھتی ہیں کہ قوم اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ترقی کا ایک اہم ذریعہ قومی زبان میں تعلیم ہے۔ پاکستان کے عوام بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کی سالمیت اور اتحاد کی ایک اہم علامت قومی زبان اردو ہے۔ کیوں کہ تحریک پاکستان میں اسلام کے بعد مسلمانوں کے اتحاد کا سب سے بڑا ذریعہ اردو تھی۔یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے قیام پاکستان کے فوراً بعد واضح کر دیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف ایک اور وہ اردو ہو گی۔ قائد اعظم کے ارشادات میں واضح طور پر اردو زبان کے بارے میں پاکستان کی قومی اور سرکاری سطح پر ترویج اور اشاعت کا حکم موجود ہے۔ قائد اعظم نے مختلف مواقع پر جو ارشادات فرمائے ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔
پہلا بیان 1942ء ”پاکستان مسلم انڈیا“ دیباچے میں کچھ اس طرح تحریر ہے
”پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی“
10 اپریل 1946ء کو آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس دہلی میں فرمایا
”میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی“
بنگال میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ

”میں آپ کو صاف صاف بتا دوں کہ جہاں تک آپ کی بنگالی زبان کا تعلق ہے تو اس افواہ میں کوئی صداقت نہیں کہ آپ کی زندگی پر کوئی غلط یا پریشان کن اثر پڑنے والا ہے۔ اس صوبے کے لوگوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس صوبے کی زبان کیا ہو گی لیکن میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو۔ اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں۔ جو کوئی آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی کام کر سکتی ہے۔۔ دوسرے ملکوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیئے۔ پس جہاں تک سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ اردو ہو گی“۔

قائد نے ہر موقع پر اردو کی اہمیت و افادیت کو واضح کرنے کی بھرپور کوشش کی ظاہری طور پر ہم پاکستانی قائد اعظم کے وفادار ہیں ان کے ایام ولادت و وفات سرکاری طور پر مناتے ہیں۔ قائد کی جائے ولادت، ان کا ذاتی سامان اور سارے کاغذات حکومت نے محفوظ کر لیئے مگر ان پر عمل کرنے کے لیئے کوئی نئی قوم اور نیئے لیڈر ہی پیدا ہوں۔ صرف انہیں اپنے پاس رکھ لیا جائے اور عمل نہ کیا جائے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے لاکھوں روپے کی دوائی لے کر اس کو بروقت استعمال نہ کرے اور کہے کہ میں اب ٹھیک ہو جاؤں گا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اپنے ساتھ ظلم ہے آج پاکستانیوں نے بھی خواہ وہ لیڈر ہو یا رعایا، قائد کے فرامین پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

علامہ اقبال نے کہا تھا کہ

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری

دنیا میں اکثر ممالک اپنی قوم کو تعلیم اپنی قومی زبان میں دیتے ہیں خاص طور سے ابتدائی تعلیم۔ جاپان نے شکست کے بعد بھی اپنی زبان میں نظام تعلیم کو برقرار رکھا اور چالیس سال کے اندر عالمی قوت بن گیا۔ چین ہمارا پڑوسی ملک ہے اپنی قومی زبان میں تعلیم حاصل کر کے خود کو عالمی طاقت منوا لیا۔ پاکستان میں بھی بار ہا یہ کوشش کی گئی کہ قومی تشخص کی بقاء اور تحفظ کے لیئے قومی زبان اردو ایک اہم اور واحد ذریعہ ہے جو مختلف اللسان اکائیوں کو جوڑنے کا واحد راستہ بھیہے۔ قومی زبان ہی قومی یکجہتی کا باعث بنتی ہے اس کے بغیر حقیقی تعلیم اور ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اسے ذریعہ تعلیم بنا کر ہی ترقی کی ٹھوس بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

مختلف زبانوں اور مختلف سطح کے نظام ہائے تعلیم قوم میں صرف تفریق، احساس برتری و کمتری کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں پاکستان میں دو طبقات نے جنم لیا ایک احساس برتری کا شکار حکمران طبقہ اور دوسرا احساس کمتری کا شکار محکوم طبقہ۔ اس کا واحد حل پاکستان میں قومی زبان میں تعلیم ہے۔ جب تدریس اردو زبان میں ہو گی تو وہ سب کے لیئے قابل فہم ہو گی۔ طالب علم نہ صرف مضمون کو سمجھ سکیں گے بلکہ اس پر اپنے خیالات و تصورات کا بہتر انداز میں اظہار کر سکیں گے۔ طلبہ میں اعتماد تب پیدا ہو گا جب و ہ اپنی بات اور اپنا مافی الضمیر کھل کر بیان کر سکیں اور بولتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔

طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ذریعہ تعلیم قومی زبان کو ہونا چاہیئے تا کہ طلباء کی صلاحیتوں کو یکساں معیار پر پرکھا جا سکے۔ ضروری ہے کہ قومی زبان سے محبت اور عزت کا جذبہ نئی نسل کے دلوں میں پیدا کیا جائے۔ ابتدائی جماعتوں سے ہی اردو کا معیار بلند کیا جائے۔ بقول شاعر
سب میرے چاہنے والے ہیں میرا کوئی نہیں
میں بھی اس ملک میں اردو کی طرح رہتا ہوں
(حسن کاظمی)

تو جانتا ہے ساری زبانیں تو کیا کروں
اردو میری زبان ہے اردو میں بات کر

شاعر کہتے ہیں کہ اس ملک میں ہماری اہمیت بھی اردو کی طرح ہے۔ ہمارا نام تو ہے مگر مقام نہیں دیا جا رہا۔ جیسے اردو کا نام تو ہے مگر اس کو لاوارث اور یتیم بچوں کی طرح بے سرو سامان چھوڑ دیا گیا ہے۔

اردو بولنے اور سمجھنے والوں کے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا جاتا جو لوگ انگریزی پڑھنا اور بولنا جانتے ہیں وہ اردو بولنے والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ زبانیں تو اظہار کا وسیلہ ہوا کرتی ہیں ان کو فیشن بنا کر اپنی قومی زبان سے نازیبا سلوک نہ کیا جائے مگر ان کو اختلاف سمجھ کر ان سے سیکھا جائے۔

رب تعالیٰ قرآن حکیم میں فرماتے ہیں
ترجمہ: ”آسمانوں اور زمینوں کے خلق کرنے اور زبانوں اور رنگوں کے اختلاف اس (اللہ تعالیٰ) کی نشانیوں میں سے ہیں“
جب یہ اختلاف اس ذات با برکات کی آیات میں سے ہے تو اس کو اگر مثبت طور پر اختیار کیا جائے تو یہ قومی اور ممالک کی ترقی و عروھ، تہذیب و تمدن، اور وقار کی علامت بن جاتا ہے۔ قومی زبان کسی قوم کی شناختی زبان ہے دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ ملک اور قوم کی بقاء اس کی قومی زبان میں ہے تہذیبی اور ثقافتی پہچان قومی زبان ہی ہوتی ہے۔ اور ملک و قوم کی معاشی صنعتی اور سماجی ترقی کا دار و مدار بھی اس کی قومی زبان کے ہر میدان میں استعمال پر ہوتا ہے۔

دنیا کے بہت سے ممالک میں تعلیمی نظام ان کی اپنی قومی زبان میں ہے۔ کیوں کہ تعلیم و ترقی قومی زبان کو اپنائے بغیر ممکن نہیں۔ جس طرح چین، جاپان، جرمنی اور روس سمیت دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنی قومی زبان میں تعلیم دے کر خود پر ترقی کے دروازے کھولے اسی طرح پاکستانیوں کو بھی چاہیئے کہ قائد کے مشن کے مطابق عمل کر کے اس کو نظام تعلیم میں رائج کیا جائے تا کہ قوم غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو کر صحیح معنوں میں ترقی کرے

قومی زبان ہی ذہنی آزادی کا سبب ہے اس کے ساتھ علاقائی زبانوں اور اس کے نفاذ کے لیئے بھی جدوجہد کے لیئے افراد کے کردار کو سراہا جائے تا کہ وہ اس کی مزید ترقی کے لیئے کام کریں۔

علاقائی زبانوں۔ اور لہجوں کی افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن قومی زبان ہی قوم کا امتیازی نشان ہے۔ زبان اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک خاص نعمت ہے جو کہ معاشرتی ضرورت کے تحت بولی جاتی ہے۔ تا کہ ہمارا مخاطب ہماری بات سمجھ سکے۔ قومی زبان کی اہمیت اور قوت جب دیگر ممالک سمجھتے اور جانتے ہیں تو ہم اور ہماری حکومت کیوں اردو کی اہمیت کو نہ جان سکی؟ یہ ایک سوال ہے۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ جو بھی حاکم آتا ہے اپنی مدت پوری کرنے اور دولت بٹورنے کی جستجو میں لگا رہتا ہے اور اگر ان سے اس موضوع پر بات کی جائے تو سارا الزام سابقہ حکومتوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

5/5

https://youtu.be/2vwCf9kDwrg

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »