زمرہ دوم ، موضوع ،   قائد اعظم کا تصور قومی زبان

ربیبہ ارباب عباسی

” اور ھم نے تمہیں خاندانوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا تاکہ تمہاری پہچان کی جا سکے” (القرآن)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس زمین پر اپنا نائب بنا کے بھیجا. اتنے بڑے عہدے پہ جب کوئ مخلوق فائز ھو جائے اور جب اسے “اشرف المخلوقات” کا خطاب دے دیا جائے تو اس پہ کچھ زمہ داریاں بھی عائد ھو جاتی ھیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پہ ھمیں اپنی عبادت کے لیے تخلیق کیا، اور اس کے ساتھ ساتھ مخلوق کی خدمت کو اعلیٰ ترین عبادت قرار بھی دے دیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ اللہ پاک نے ھمیں تمام حیات کے لیے فلاح و بہبود کی کوشش کرنے کے لیے بھیجا۔ انسان کو ایسا ذھن عطا کیا جو ھمیشہ اپنی سرزمین کی ترقی اور بہتر کو بہترین بنانے کی جستجو میں رھتا ھے۔

مختصر یہ کہ ھمیں تمام افراد، چرند پرند، حشرات، اور دیگر جانداروں کی بہتری کے لیے کاوشوں کی خاطر بنایا گیا ھے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے انسان نے باھمی گروہ تشکیل دینے کا آغاز کیا تاکہ بڑے پیمانے کے منصوبہ جات کم عرصہ میں مکمل کیے جا سکیں۔ انسان چھوٹے چھوٹے قبائل اور گروہوں میں منقسم ھو گۓ۔ کیا آپ جانتے ھیں کہ اس ترقی کے سفر میں انسان کے پاس اھم ترین اور مؤثر ترین صلاحیت کیا رھی؟ وہ صلاحیت تھی اپنے خیالات کو دوسرے لوگوں کو باور کرانے کی صلاحیت، جسے “ابلاغ” کہا جاتا ھے۔ اپنے احساسات، جزبات، تصورات، اور خیالات کی مؤثر ترجمانی کرنے کا طریقہ کار “زبان” کہلاتا ہے۔

زبان باہمی تعلقات کی کنجی ہے۔ جب دو انسان ایک دوسرے کی زبان سمجھتے ہیں تو نفاق دور ھوتے ھیں، کینہ کا خاتمی ھو جاتا ھے۔ اس طرح ھدایات پر اثر طریقہ سے فراھم کی جاتی ہیں اور ترقی کی راہ ہموار ھو جاتی ھے۔ لیکن، اگر زبانوں میں فرق آ جاۓ اور لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے سے قاصر ھو جائیں، تو ایسی دشمنیاں جنم لیتی ھیں جو نسلوں تک چلتی ہیں اور نفرتوں کی ایسی آندھیاں چلتی ھیں جو ہر خیر کو جڑ سے اکھاڑتی اور ختم کر دیتی ھیں۔

 یہ بھی پڑھیں
  1. 25فروری 1948ء ،جب بنگالی اراکین کی اکثریت نے اردو کے حق میں ووٹ دیا
  2. قائد اعظم کا تصور قومی زبان،عالمی مقابلہ میں اول انعام یافتہ مضمون
  3. مقابلہ اردو مضمون نویسی میں‌کامیاب طلباء و طالبات کی ترمیم شدہ حتمی فہرست
  4. نفاذ اردو میں مجرمانہ تساہل ! آخر کب تک؟

برصغیر میں ایسا ھی کچھ پیش آیا جہاں دو بڑے مذھبی گروھوں کی بود و باش تھی۔ دونوں اپنی زبانوں، ثقافتوں، روایات، اور اقدار کی حفاظت کے لیے پرجوش تھے۔ ان گروہوں کی اپنے اپنے ادیان سے بہت گہری لگن تھی اور کسی بھی صورت اپنی پہچان پہ سمجھوتا کرنے کو تیار نہ تھے۔ مسلمانوں کی جماعت اردو زبان کو اپنا اوڑھنا بچھونا مانتی تھی، اور ھندوؤں کو اپنی ھندی زبان سے بڑھ کر کوئ شے نہ تھی۔

بات سمجھنے کی کچھ یہ ھے کہ کسی بھی خطے میں محض ایک ھی مرکزی زبان کا ھونا اھم ھے، تاکہ اس کی طرف لوگوں کا رویہ ایسا ھو جس سے یہی زبان انکے لیے نقطہ اجتماع قرار پاۓ۔ تمام تعلیمی، ترقیاتی، سیاسی، اقتصادی، اور معاشرتی معاملات اسی زبان کے ارد گرد رھیں جیسے مختلف علاقوں اور تہذیبوں کے افراد خانہ کعبہ کے گرد ایک ھی مقصد “رضاۓ الٰہی” کی خاطر طواف کرتے ھیں۔

اس زبان کے لیے ایک عالمی نام “lingua franca” استعمال کیا جاتا ھے جسے اردو میں “مخلوط زبان” کہتے ھیں۔یہ ایسی زبان ھوتی ھے جسے ہر خاص و عام جانتا اور استعمال کرتا ھے۔ ایسی زبان کی موجودگی کیوں ضروری ھے؟ جواب اس کا یہ ھے کہ مختلف خطوں، ثقافتوں، اور مذاھب کے لوگ جو ایک بولی نہ بولتے ھوں، ایک مخلوط زبان پہ اگٹھے ھو جاتے ھیں جسے” اجماع با الزبان” بھی کہا جا سکتا ھے۔ آج کل انگریزی عالمی سطح پہ مخلوط زبان کے طور پہ جانی اور استعمال کی جاتی ھے۔

واضح ھونے میں کوئ اشکال با لحاظ دلائل بالا باقی نہیں رہی کہ زبان، کلام اور رسم و رواج سمیت عملی زندگیوں میں کیا حالات برصغیر میں رھنے والوں کو درپیش رھے۔ مسلم اور ھندو ہر دو گروہ برصغیر میں یہ چاھتے تھے کہ انہیں کی زبان کو دفتری حیثیت حاصل ھو جائے۔انگریز سامراج نے مسلمانوں کو اس دھوکے میں ڈال دیا کہ وہ اردو اور ھندی کو بیک وقت یکساں حیثیت دی جا سکتی ھے۔

جبکہ جنگ آزادی (1857ء) کے بعد ہر دو انگریزوں اور ھندوؤں کی مشترکہ چال بازیوں نیز مسلمانوں کے خلاف ساز باز کی حقیقت آشکار ھوتی چلی گئ۔ اس کے باوجود ایک عرصہ غفلت جیسے قومی جرم کے مرتکب ھونے کے بعد اس میں مزید تاخیر رھتی لیکن ھمارے عظیم راھنما نے احساس زمہ داری کے عین مطابق اپنا مؤثر کردار ادا کیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے دو قومی نظریہ کے پیش نظر اپنے حدف کی طرف توجہ کا ارتکاز کرتے ھوۓ 21 مارچ 1945ء کو ڈھاکہ میں اپنے خطاب کے زریعہ واضع طور پر اردو زبان کی اھمیت اجاگر کر دی۔ آپ رح نے اپنے خطاب میں ارشاد فرمایا:
“بر صغیر کے دس کروڑ مسلمانوں نے اردو کی آبیاری کی ھے۔ ایک ایسی زبان جو پاکستان کے طول و ارض میں سمجھی جاتی ھے.”

اب ھمیں قائد اعظم رح کے الفاظ کی حکمت کو سمجھنے کی ضرورت ھے۔ پاکستان میں فقط بارہ فی صد آبادی کی مادری زبان اردو ھے۔ باقی تمام آبادی کی علاقائی اور مادری زبان مختلف ھے اور ان کے مابین ابلاغ اور ترسیل مٹ آسانی صرف ایک عمومی زبان ھی کے زریعہ ممکن ھے۔ پاکستان کے کسی بھی خطے یا صوبے میں، اردو سمجھنے والے افراد بڑی تعداد میں پاۓ جاتے ھیں۔ اردو نے ملک عزیز کی قومی یک جہتی و سلامتی کو تحفظ فراہم کیا اور فتنوں کے آگے بند باندھا ہے۔

قائد اعظم رح نے ڈھاکہ کے اپنے متذکرہ خطاب میں یہ بھی فرمایا:
“اردو ایک ایسی زبان ھے جو اسلامی تہذیب و تمدن کی بہترین جہات اور روایات کی کسی بھی صوبائی زبان سے زیادہ عکاسی کرتی ھے اور یہ دوسرے ممالک کی زبانوں سے نزدیک تر بھی ھے۔”

اردو دراصل ترکی زبان کے لفظ “Ördü” سے اخذ کی گئی اصطلاح ھے، جس کے معنی”لشکر” کے ھیں۔ اردو ھمارے عظیم آباء و اجداد کی نشانی ھے۔ اردو ترکی، عربی، اور فارسی زبانوں کا مرکب ہے۔ ترکی زبان ھمارے سلطنت عثمانیہ سے تعلق پر واضح دلیل ھے۔ عربی زبان دین مبین کی زبان ھونے کے ناطے ھمارے لیے اھم و مقدس زبان ھے۔ فارسی زبان ھمیں ان آباء و اجداد سے جوڑے ھوے ھے جنہوں نے دارا کی شان شوکت پر اپنی فتح کے پھریرے لہرا دیے تھے۔ بقول حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ:

تجھے اس قوم نے پالا ھے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا

اردو کی مثال ایسے بچے کی طرح ھے جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ھوا ھو۔ اردو نے ہر عظیم زبان سے چند الفاظ میراث کے طور پر حاصل کیے ھیں۔ اردو مسلمانوں کی پہچان، شناخت ھے جبکہ ھندی کا تعلق سنسکرت، مراٹھی، تامل اور دیگر غیر مسلموں کے ھاں استعمال ھونے والی زبانوں سے ھے۔ قائد اعظم رح اس حقیقت کو بخوبی جانتے تھے اسی لۓ انہوں نے اپنے ڈھاکہ کے خطاب میں مزید فرمایا:

“میں یہ بات واضح کر دوں کہ پاکستان کی ریاستی زبان نہیں ھو سکتی مگر اردو. جو بھی آپ کو اس سے بدظن کرنے کی کوشش کرے وہ پاکستان کا دشمن ھے۔ واحد ریاستی زبان کے بغیر کسی قوم متحد رہ کر کام نہیں کر سکتی۔”

قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے ایک نظریہ کی بنیاد پہ ایک مملکت کا وجود ممکن کیا۔ ہر روز ایسی کرامتوں کا ظہور نہیں ھوتا کہ فقط ایک نظریہ کی بنیاد پہ ایک ریاست قائم کی جاۓ۔ قائد اعظم کے نزدیک پاکستان کی بنیاد “لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ” تھی۔ اب آپ ہی بتائیے، کونسی زبان اس کلمے کے قریب تر ہے؟ یہ:

“अल्लाहकेसिवाकोईरबनहींऔरमुहम्मदउसकेरसूलहैं”

یا یہ؟

“اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ) کے رسول ہیں۔”

قائد اعظم نے قوم کو متحد رکھنے کا یہی اصول متعین کیا کہ پاکستانی اردو زبان پہ اجماع کر لیں، تاکہ نسلوں، ذاتوں، فرقوں، اور قبیلوں کی تفریق کا خاتمہ ہو جائے، اور ہم پنجابی، سندھی، پختون، سرائیکی، اور بلوچی نہیں، بلکہ پاکستانی بن کر رہ سکیں۔ ریاست ماں ہوتی ہے، اور ہماری مادری و ریاستی زبان اردو ہے۔

یہ ایک فرضی کہانی نہیں، بلکہ قوم کے باشندوں کا ایک دوسرے کے ساتھ وعدہ ہے۔ اور اگر اس وعدے کو پس پشت ڈال دیا جائے تو انجام کیا ہوگا، اس کا اندازہ آپ 1971ء کے سانحے “سقوط ڈھاکہ” سے لگا سکتے ھیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کی یہ خواہش تھی کہ ھم ملت واحدہ کی اکائی بن کر رھیں اور ہر قسم کے حالات، مواسم، اور امتحانات کا مضبوط قوم کی حیثیت میں مقابلہ کر سکیں۔ بقول علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ:

ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

 

5/10
ربیبہ ارباب عباسی

ربیبہ ارباب عباسی

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں بین الاقوامی تعلقات عامہ کی سال سوم کی طالبہ ہیں

One thought on “اردو جسے قائداعظم محمد علی جناح نے اتحاد ملت کا واحد ذریعہ قراردیا”

Comments are closed.

Translate »