دانیال حسن چغتائی ، ایم فل لاء ، کہروڑ پکا،لودھراں

دنیا میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہر زبان کے کچھ اثرات ہوتے ہیں جو اس کے بولنے اور سننے والوں کے دل و دماغ کو متاثر کرتے ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال میں زبان کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ معاشرے میں جو زبان بولی جاتی ہے اس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ بحیثیت مجموعی قومی رویہ کیا ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں جب مسلمانوں نے اپنی حکومت کی بنیاد رکھی تو ان کے لشکر میں مختلف علاقوں کے لوگ شامل ہوئے جن میں عربی ترکی ایرانی کشمیری پشتو اور بنگالی زبانیں بولنے والے لوگ شامل تھے۔ رفتہ رفتہ ان سب زبانوں کے ملنے جلنے سے ایک نئی زبان اردو وجود میں آئی۔

برصغیر میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھنے والے مسلمان ترکی نسل سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ اردو ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی لشکر کے ہیں کیونکہ اسے لشکریوں نے جنم دیا لہذا اسے اردو کا نام دیا گیا۔

ابتدا میں اردو کو ہندی، ہندوی اور ہندوستانی کا نام دیا گیا۔ بعد ازاں اسے ریختہ کہا جاتا رہا۔ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں اسے اردوئے معلٰی اور زبان دہلوی کہا گیا۔ جب اس زبان کا استعمال بکثرت ہونے لگا تو صرف اردو کہا جانے لگا جو آج تک مستعمل ہے۔

ابتدا میں اردو میں زیادہ تر شاعری کی جاتی رہی۔ انیسویں صدی کے آغاز میں اردو نثر متعارف کروائی گئی۔ انگریزوں نے اردو کو مسلمانوں کی زبان ہونے کی وجہ سے پھلنے پھولنے نہ دیا لیکن سرسیداحمدخان اور مولوی عبدالحق کی کوششوں سے اردو زبان کو فروغ ملتا رہا۔ اردو زبان کے فروغ میں اردو ہندی تنازعہ نے بھی اہم کردار کیا۔ یوں دیگر نکات کے ساتھ اردو زبان کا مسئلہ بھی تحریک پاکستان میں اہمیت اختیار کر گیا۔ قیام پاکستان کے بعد ہماری قومی زبان بن گئی اور اس کی ترقی اور اشاعت کا سہرا مولوی عبدالحق کے سر ہے جنہیں بابائے اردو بھی کہا جاتا ہے۔

اردو اس وقت دنیا کی چند بڑی زبانوں میں سے ایک ہے۔ عالمی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں چینی اور انگریزی کے بعد تیسری بڑی زبان اردو ہے۔ اس کے بولنے اور سمجھنے والے دنیا کے تقریبا خطے میں موجود ہیں۔


یہ بھی پڑھیں


پاکستان میں اسے قومی زبان کا درجہ حاصل ہے اور یہ ملک بھر میں رابطے کی واحد زبان ہے جو کراچی سے طورخم تک سمجھی، بولی، پڑھی اور لکھی جاتی ہے۔ دنیا کی معروف یونیورسٹیوں میں اردو کی تدریس کے شعبہ جات قائم ہیں جن میں اردو لکھنے والوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اس وقت دنیا میں اردو جاننے اور بولنے والوں کی مجموعی تعداد ڈیڑھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے جو اردو کی مقبولیت عامہ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

اردو ایک مرکب زبان ہے اس میں دیگر زبانوں کے اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں اور اردو کے مزاج ہے کہ یہ دوسری زبانوں کے الفاظ اپنے اندر جذب کر لیتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس میں ہر شخص کے لیے ایک انجانی سی کشش ہے۔ اردو میں ہندی زبان کی نرمی و دلآویزی،عربی کی فصاحت و بلاغت اور فارسی کی شیرینی سب ایک ساتھ مل جاتی ہیں۔

قیام پاکستان سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح نے بارہا اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دیا اور قیام پاکستان کے فوراً بعد اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔

اب ہم اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں کہ قائد اعظم آخر کیوں اردو ہی کو پاکستان کی قومی زبان کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔
ڈھاکہ میں 21 مارچ 1948 کو ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے، بانی پاکستان نے کہا کہ کیا بنگالی اس صوبے کی سرکاری زبان ہوگی یا نہیں، اس کا فیصلہ اس صوبے کے عوام کے منتخب نمائندیں کریں گے۔لیکن میں آپ پر واضح کر دوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی، اس کے علاوہ اور کوئی زبان نہیں۔ جو کوئی بھی آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ ایک زبان کے بغیر کوئی بھی قوم مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کام نہیں کر سکتی۔ اس لیے جہاں تک سرکاری زبان کا تعلق ہے، پاکستانی زبان اردو ہوگی۔

بہت سے لوگ جن میں سیکولر سیاست دان اور صحافی شامل ہیں۔ اس فیصلے کے پیچھے پوشیدہ منطق پر سوال اٹھاتے ہیں کہ بنگالی زبان کے حق میں بیان نے لسانی شناخت کی بنیاد پر مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسند تحریک کے بیج بو دیئے۔ بعد میں اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی پاکستان کی قومی زبان قرار دیا گیا جس کا پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔

پاکستان لسانی اعتبار سے بہت متنوع ملک ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں 73 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اس جائزے میں بنگلہ دیش میں بولی جانے والی زبانیں بھی شامل ہیں۔ کثیر لسانی ایک نعمت ہے۔ یہ نہ صرف کسی کو دوسری زبان کے بولنے والوں تک تک رسائی فراہم کرتی ہے بلکہ دلوں میں کشادگی پیدا کرتی ہے اور نسل یا زبان کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔

لیکن یہ لسانی تنوع نایاب نہیں ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں لسانی تنوع پایا جاتا ہے اور تاریخ بتاتی ہیں کہ ایسے حالات میں رابطے کی سہولت کے لیے ایک مشترکہ زبان کو اپنایا جاتا ہے۔ تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ قرون وسطی کے زمانے میں بھی کچھ زبانیں مشترکہ زبانوں کے طور پر کام دیتی تھیں، خاص طور پر مختلف قوموں اور نسلی گروہوں کے درمیان زبان کو تجارت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ جیسا کہ فرانسیسی کبھی ”سفارت کاری کی زبان“ رہی۔ لاطینی اور یونانی بالترتیب ایک ہزار سال تک عیسائیت کی زبانیں رہیں۔

اب انگریزی کو پوری دنیا میں سمجھی جانے والی زبان کے طور پر مانا جاتا ہے۔ لہٰذا ایک ایسی زبان ہونی چاہیے جو مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کے درمیان رابطے کو ممکن بنانے کے لیے ایک عام زبان کے طور پر استعمال ہو سکے۔

اردو ایک فطری انتخاب

پاکستان جیسے کثیر لسانی اور کثیر النسل ملک میں، اردو ایک ایسی مشترکہ زبان ہے جسے یہاں کے لوگوں کی اکثریت بولتی اور سمجھتی ہے اور اسے ملک کے مختلف علاقوں اور صوبوں کے درمیان رابطے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اردو قومی اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔

اگر قائد اعظم محمد علی جناح ایک سے زیادہ زبانوں کو پسند کرتے، بنگالی اور اردو کہتے تو پھریہ سوال اٹھایا جاتا کہ دو کے بجائے تین زبانیں کیوں نہیں؟ اردو اور بنگالی کے ساتھ پنجابی کیوں نہیں؟ کیا پاکستان میں دوسری زبانیں نہیں بولی جاتیں؟ پاکستان کی ہر زبان کو ایک جیسا درجہ کیوں نہ دیا جائے؟ تو کیوں نہ پاکستان کی ہر زبان کو قومی زبان قرار دیا جائے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر زبان زبان کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے سے پنڈورا باکس کھل جاتا، جیسا کہ اردو اور بنگالی کے معاملے میں ہمیں درپیش ہوا۔

اردو بطور زبان ایک فطری انتخاب تھی کیونکہ یہ لوگوں کی اکثریت کی زبان تھی، یہ پاکستان کے مشرقی اور مغربی دونوں صوبوں میں بولی اور سمجھی جانے والی واحد زبان تھی۔ بنگالیوں کی اکثریت اردو سمجھتی تھی اور وہ اردو کے خلاف نہیں تھے۔ صرف ایک چھوٹی سی اقلیت نے اردو کے خلاف نفرت کو ہوا دی۔ بدقسمتی سے، کچھ علاقائی اور علیحدگی پسند سیاست دانوں نے کثیر لسانی اور کثیر النسلی ماحول کا بہت فائدہ اٹھایا کیونکہ یہی وہ واحد راستہ تھا جس سے وہ ترقی کر سکتے تھے۔ آج بھی اردو پاکستان کی اکثریتی زبان ہے۔ یہ ملک کے ہر علاقے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، یہاں تک کہ دور دراز علاقوں میں بھی اس کے بولنے والے موجود ہیں۔

اور یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، دونوں نے اردو کو اور بھی مقبول بنا دیا ہے جس سے پاکستان کے مختلف حصوں سے لوگ اردو میں ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔ سیاست دان عوامی جلسوں سے اردو میں خطاب کرتے ہیں۔ اردو کو 95 فیصد پاکستانی سمجھتے ہیں، حالانکہ بمشکل آٹھ فیصد لوگوں کی ہی مادری زبان اردو ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت اردو کو پہلی زبان کے طور پر استعمال کرتی ہے اور اس ناچیز سمیت بہت سے لوگ اپنی مادری زبان پر اردو کو ترجیح دیتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ قائد اعظم نے صوبوں کو ان کی علاقائی زبان کو بطور سرکاری زبان صوبے کی حد تک اختیار کرنے کی اجازت دی تھی اور اردو کو وفاق کو مضبوط کرنے کے لیے وفاقی طور پر استعمال کیا جانا تھا، اسی بات پاکستان کے 1973 کے آئین کے آرٹیکل 251 میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

1973ء کے آئین میں ہم نے اردو کو قومی زبان مانا مگر عمل نہ کر پائے۔ 68 سال بعد عدالت عظمی نےٰ قومی زبان کے نفاذ کا ایک بار پھر حکم صادر فرمایا مگر ہم آج بھی لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں۔ قومی زبا ن کے بغیر پاکستانی ایک الگ قوم نہیں بن سکتے۔

One thought on “اردو،چینی اور انگریزی کے بعد دنیا کی تیسری بڑی بولی اور سمجھی جانیوالی زبان”

Comments are closed.

Translate »