Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:6 Minute, 7 Second
محمد کامران ، پی ایچ ڈی ، نمل یونیورسٹی اسلام آباد

وطن عزیز پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے پر رکھی گئی ہے۔ جبکہ اہلِ ہند پر دو قومی نظریے کا انکشاف اردو کی بدولت ہی ہوا۔ جب اردو ہندی تنازع شروع ہوا تو مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کے نظریہ قومیت پر سوچنا شروع کر دیا ۔ سر سید احمد خان جیسے مسلم رہنماؤں نے اس امر کی طرف اشارہ کر دیا کہ جو قوم اردو کو کی ترویج برداشت نہیں کر سکتی اس قوم کے ساتھ اہلِ اسلام کا رہنا ممکن نہیں ہے۔ گویااردو زبان کا براہِ راست مسلمانوں کے نظریہ قومیت سے تعلق ہے۔

حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ مسلمانانِ ہند کے حقوق اور ان کی الگ قومیت کے سب سے بڑے داعی تھے یہی وجہ ہے کہ وہ فروغِ اردو کی جدوجہد کے بھی عظیم ترین سپاہی تھے ۔قائد اعظم کے خیال میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ اردو کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے کیوں کہ قوم کی ترقی زبان کی حفاظت سے منسلک ہوتی ہے ۔

ذیل کی سطور میں ہم فرامین قائد کی روشنی میں اس امر کا جائزہ لیں گے کہ قائد اعظم کی قومی زبان کے حوالے سے کیا فکر تھی ۔

قومی زبان کے حوالے سے قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے قیام ِ پاکستان سے قبل ہی اردو کے نفاذ کا اعلان فرما دیا تھا قائد اعظم کا یہ فیصلہ فطری تھا۔ کیونکہ اردو پورے برصغیر میں مسلمانوں کی نمائندہ زبان بن کر ابھری تھی ۔ ہندوستان کی ہندو اکثریت بھی اردو کے ساتھ مسلمانوں کے تہذیبی ، فکری اور دینی تعلق کو سمجھ چکے تھے اس لیے اردو کو رابطے کی زبان ہونے کے باوجود کانگریسی تعصب کا سامنا کرنا پڑا ۔ پاکستان کی تحریک چوں کہ علاقائی آزادی اور خود مختاری کی تحریک نہیں تھی نہ ہی اس تحریک کا تعلق معاشی و سماجی مسائل سےتھا۔ اس تحریک کا سب سے بڑا محرک نظریہ اسلام( جو نظریہ پاکستان کہلاتا ہے) تھا۔

یہی وجہ ہے کہ اس کی قومی زبان کے انتخاب میں بھی علاقائی مصلحتوں کو پیش نظر نہیں رکھا گیا بلکہ اسلامی تہذیب و تمدن کے تقاضوں کے پیش نظر اردو کو قومی زبان کے طور پر منتخب کیا گیا۔ اس کی سب بڑی دلیل مشرقی پاکستان میں پیدا ہونے والے حالات پر قائد اعظم کا موقف ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں ابتدا سے ہی قومی زبان کا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا لیکن قائداعظم نے نہایت سختی سے اس مسئلے کو دبا دیا تھا۔


یہ بھی پڑھیں


شاید قائد اعظم ؒ یہ سمجھتے تھے کہ جب نظریہ پاکستان اس ملک کے آئین اور قانون کے طور پر نافذ ہو جائے گا تو یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا لیکن بدقسمتی سے ہم نظریے سے دور ہوتے چلے گئے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ دوبارہ ابھر کر خطرناک انداز میں سامنے آ گیا۔ بلاشبہ سانحہ سقوطِ ڈھاکہ کی وجوہات میں سےایک وجہ زبان کا مسئلہ بھی تھا۔ کاش اس مسئلے کو قائد اعظمؒ کے نظریے کے مطابق حل کر لیا جاتا۔

قائد اعظمؒ کے نزدیک قومی زبان کا تصور یہ تھا کہ ملک میں ایک ایسی زبان نافذ کی جائے جو قومی وحدت کی علامت بن جائے ۔کہا جا سکتا تھا کہ قائد اعظمؒ کی نگاہِ دور اندیش مستقل میں ایک ایسی قوم کا خواب دیکھ رہی تھی جو وحدت ِ مذہب، وحدتِ زبان اور وحدت ِ ملت کے بندھن میں بندھی ہوئی ہو۔ جو مادری زبانوں ، ثقافت رنگوں اور رسوم و رواج کے تنوع کے باوجود ایک قوم کہلائے ۔

قائد کے اس نظریے کی سب سے واضح جھلک ان کے24 مارچ 1948 کے اس بیان میں دکھائی دیتی ہے جو انہوں نے مشرقی پاکستان میں دیا۔
"اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو ان کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو اور صرف اردو ہے "مذکورہ بالا گفتگو سے یہ امر واضح ہے کہ قائد اعظم کا واحد قومی زبان کا فلسفہ در اصل ان کی قومی وحدت کے خواب کو تعبیر بخشنے کے لیے تھے۔ قائد اعظم مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے دشمن کی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 1948 میں مشرقی پاکستان کے اپنے آخری دورے میں ان خدشات سے آگاہ فرما دیا تھا ۔

اگرچہ یہاں ان خدشات کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں ہے لیکن یہ بات ضرور قابل غور ہے کہ اس کٹھن موقعے پر انہوں نے قومی زبان کے بارے میں اپنا نظریہ کھل کر بیان کر دیا۔

21 مارچ 1948 میں ڈھاکہ میں ایک تقریر میں قائد اعظمؒ نے دوٹوک انداز میں اعلان فرمایا :
"میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی اور صرف اردو۔ اور اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں ہوگی۔دیگر اقوام کی تاریخ اس امر پر گواہ ہےکہ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی زبان متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی اور کام کر سکتی ہے ، پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ صر ف اور صرف اردو ہی ہوگی "

قائد کے مذکورہ بالا فرمان میں بھی ان کے نظریے کی جھلک بہت نمایاں ہے۔ انہوں نے مشترکہ سرکاری زبان یعنی واحد قومی زبان کو ہی قومی وحدت اورترقی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

قومی زبان اہلیت و تعریف پر پورا اترنے والی واحد زبان

جہاں ہم مشترکہ زبان کی بات کرتےہیں تو یہ حقیقت پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ مشترکہ زبان قرار پانے کی مستحق ایسی زبان ہے جو ملک کےطول و عرض میں بسنے والے تمام ہم وطنوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ چوں کہ زبان کا کوئی مذہب ، نسل اور فرقہ نہیں ہوتا کہ مذہب یا فرقے کی بنیاد پرقابلِ قبول قرار پائے۔ زبان کی قبولیت اور مقبولیت کےلیے یہ بات ضروری ہے کہ سب کو سمجھ میں آتی ہو۔

اس اعتبار سے قائد اعظم کا موقف نہایت معقول معلوم ہوتا ہے کہ اردو زبان پورے بر صغیر میں رابطے کی زبان کے طور پر جانی جاتی ہے۔ خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں تو یہ عربی رسم الخط کی وجہ سے زیادہ مقبول ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ قائد اعظم کا تصور قومی زبان نہایت معقول اور مستحسن تھا۔

اگر آج بھی ہم پاکستان کی مملکت اور اس کے نظریے کی حفاظت کرنا چاہتے تو ایسی قومی زبان کو فروغ دینے کی کوشش کرنا ہوگی جو رابطے کا کام کرے۔ یقینا ایسی صفات صرف اور صرف اردو زبان میں ہی پائی جاتی ہیں۔ الغرض قومی فلاح اور یگانگت اسی میں ہے کہ قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے فرامین کے مطابق اردو کو قومی اور سرکاری بان کے طور پر نافذ کر دیا جائے ۔

اگر ہم اردو کو فروغ دے کر اس کا صحیح معنوں میں نفاذ یقینی بنا لیں تو اس کا فوری اثریہ ہوگا کہ ملک سےلسانی منافرت پر مبنی تمام منفی افکار خود بخود ختم ہونا شروع ہو جائیں گے اور ملک میں ترقی اور اتحاد کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Previous post اردو ،ایک زبان ہی ایک قوم کی تعمیر و ترقی کی ضامن ہوسکتی ہے
Next post قدرتی وسائل اورانسانی ہاتھوں سے تباہی کے نتیجے میں‌موسمیاتی تبدیلیاں!!
Translate »