آزادی ڈیسک
سعودی عرب نے تاریخ میںپہلی بار خواتین کو بھی فو ج میںبھرتی ہونے کی اجازت دیدی ہے ،مقامی ذرائع ابلاغ کیمطابق خواتین کو سعودی عربین آرمی،رائل سعودی ایئرڈیفنس ،رائل سعودی نیوی ،رائل سعودی اسٹریٹجک میزائل فورس اور آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز میںخواتین کو بھرتی ہونے کی اجازت ہوگی اور مردوخواتین امیدوار ایک ہی پورٹل کے ذریعے اپنا اندراج کروا سکیں گے ،جس کے بعد باقاعدہ طریقہ کار کے تحت بھرتی کا عمل مکمل کیا جائے گا ،تاہم خواتین کیلئے کچھ اضافی شرائط بھی لاگو ہوںگی ،یعنی ان کےلئے عمر کی حد 21سے 40 سال اور کم از کم ہائی سکول تک تعلیم لازمی ہوگی ،جبکہ غیر سعودی مردوںسے شادی کرنے والی خواتین فوج کا حصہ نہیںبن سکیںگی

واضح رہے کہ حالیہ کچھ سالوںکے دوران سعودی عرب میںخواتین کے حوالے سے مروجہ قوانین میںبڑی حد تک تبدیلیاںکی گئیں،جس کے تحت انہیںگاڑی چلانے اور کھیلوںکی سرگرمیوںمیںحصہ لینے اور انہیںبغیر محرم بیرون ملک سفر کرنے کی بھی اجازت دی گئی ،اور یہ بالخصوص سعودی عرب جیسے کٹر مذہبی اور قدامت پسند معاشرے کے پس منظر میںبڑی تبدیلیاںتصور کی جارہی ہیں