مفتی تنویراحمداعوان


مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان یکم اکتوبر 2021؁ بروز جمعہ کنونشن سنٹر اسلام آباد میں دوسراآل پاکستان طلبہ اجتماع منعقد کررہی ہے،یقینا یہ عظیم الشان اور ملک گیر اجتماع ہوگا،جس میں تمام سٹوڈنٹس تنظیموں کے قائدین اورذمہ داران کے علاوہ قومی وبین الاقوامی مندوبین،ماہرین تعلیم،علماء و مشائخ،سیاسی اورسماجی شخصیات،صحافی،وکلاء اور تاجرراہنما شرکت فرمائیں گے۔اس میں دو رائے نہیں کہ یہ آل پاکستان طلبہ اجتماع نوجوانوں میں شعور وآگہی کے حوالے سے سنگ میل ثابت ہوگا۔

یاد رہے کہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اس سے قبل بھی اسی کنونشن سنٹر میں 22مارچ 2013؁ء کوآل پاکستان طلبہ اجتماع کا کامیاب انعقاد کرچکی ہے،جس میں قومی اور بین الاقوامی شخصیات نے شرکت کرچکی ہیں،اس عظیم الشان طلبہ اجتماع کے مہمان خصوصی (رئیس ام القرٰی یونیورسٹی مکہ مکرمہ)ڈاکٹر علی محمد علی الباروم تھے

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے وفد کی وزیراعظم آزادکشمیر عبدالقیوم نیازی سے دعوتی ملاقات

جب کہ تمام طلبہ تنظیموں کے راہنماوں کے علاوہ الشیخ ابو الجود محمود السمرائی (مدینہ منورہ)،محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان،چیئرمین متحدہ دینی محاذقائدجمعیت علماء اسلام(س)مولانا سمیع الحق شہیدؒ،جمیعت علماء اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری، جنرل (ر)حمید گلؒ،مولانامحمداحمد لدھیانوی،متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما عبد الخالق پیر زادہ،راجہ ظفرالحق،محمد علی درانی،لیاقت بلوچ اورمفتی منیب الرحمان کو مدعو کیا گیا تھا،


یہ بھی پڑھیں


اس فقید المثال آل پاکستان طلبہ اجتماع سے ناظم اعلیٰ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان صفدر صدیقی، ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ کے سربراہ ڈاکٹرعلی محمد علی الباروم، امیر شوری مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان عمیر اقبال چوہدری،امیر جے یو آئی (س) شہید ناموس رسالت مولانا سمیع الحق شہید،DG,ISIجنرل (ر) حمید گل مرحوم،سیکرٹری جنرل جمیعت علماء اسلام ف مولانا عبدالغفور حیدری ،محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نمائندہ،تحریک تحفظ پاکستان کے مرکزی نائب صدر شاہد باجوہ،

متحدہ قومی موومنٹ کے سابق سینیٹر عبد الخالق پیرزادہ،معروف تجزیہ نگار و صحافی خورشید ندیم،طلبہ راہنما ڈاکٹر نادر خان، عرب بزرگ راہنما ابو الجود الشیخ محمود السمرائی،صدر جماعت اسلامی پنجاب میاں اسلم،سابق امیر شوریٰ ایم ایس او پاکستان ملک عبدالرشید،مولاناتنویر احمد علوی،معروف صحافی یونس عالم،سابق امیر شوریٰ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سید طلحہ زبیری ، سٹوڈنٹس راہنما حاٖفظ اقرار احمدعباسی اور طلبہ تنظیموں کے راہنماوں نے خطاب کیا اور طلبہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے معززین نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی تھی۔یہ طلبہ اجتماع ہر اعتبار سے کامیاب تھا

اوراس کے مثبت اور تعمیری نتائج ملکی سطح پرمحسوس کئے گے اورجس کے بعد طلبہ حقوق کی جدوجہد اور طلبہ تنظیموں کے مزاج ومزاق اورتنظیمی جدوجہدمیں نئے دور کا آغاز ہواتھا،اس اجتماع کے موقع پر عظیم جرنیل سابق ڈی جی آئی ایس آئی جناب حمید گل رحمہ اللہ نے تاریخی الفاظ کہے تھے کہ” میں نے نوجوانوں کا اتنابڑا اجتماع اس ہال میں اس پہلے کبھی نہیں دیکھا”۔

مسلم سٹوڈنٹس آگنائزیشن پاکستان کی بنیاد 11 جنوری 2002 کو رکھی گئی

یہ واحد طلبہ تنظیم ہے جو اپنا واضح نصب العین اورمنشوررکھتے ہوئے آزاداورخودمختار حیثیت سے نظریاتی جدوجہد پریقین رکھتی ہے۔MSOپاکستان کے محب الوطن،باصلاحیت اورمتدین نوجوان قائدین نے” غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان "کے لیے نظریاتی،فکری اورتحریکی جدوجہد کا مرکز ومحوردینی وعصری تعلیمی اداروں کو بنایا ہے،

تعلیمی اداروں میں گروہ بندی، تشدداوراسلحہ کلچر کے فروغ کے بجائے پرُ امن اورنظریاتی جدوجہد کو اپنا شعار بنایا ہے،یہ واحد طلبہ تنظیم ہے جس نے دینی و عصری تعلیمی اداروں کے مابین پائی جانے والی ملاں اور مسٹر کی طبقاتی تفریق کے خاتمہ کا بیڑا اٹھایا،

کنونشن سنٹر اسلام آباد

طبقاتی نظام اور نصاب تعلیم کے خلاف مؤثر آواز بلند کی اور تعلیم وتعلیمی اداروں کے تقدس کاشعوراجاگر کرنے کے لیے انتھک جدوجہد کی ہے۔بلاشبہ ایم ایس او پاکستان کی دوعشروں پر محیط جدوجہد اس امر کی عکاس ہے کہ ایم ایس او پاکستان نے ہمیشہ اسلامی روایات اور مشرقی اقدار کے تحفظ اور فروغ کے لیے مؤثرآواز اٹھائی ہے،

مقدس شخصیات،ختم نبوت،اصحاب رسول و اہلبیت اطہارکی ناموس کے تحفظ کے لیے ہمیشہ مؤثر کردار ادا کیا ہے،آزادی اظہار رائے کے نام سے سوشل میڈیا اورپرنٹ میڈیاپر توہین کی روک تھام او ر اس کے سد باب کے لیے ایم ایس پاکستان ایک توانا آوازثابت ہوئی ہے۔

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان روز اول سے دینی و عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کی کردار سازی کررہی ہے تاکہ جب یہ نوجوان عملی زندگی میں صاحب ِمنصب واختیار ہوں تو ایمان،تقویٰ،دیانت اور امانت داری کے اوصاف سے متصف ہو کر اپنے فرائض منصبی کو ادا کرکے اسلامی وفلاحی معاشرہ کے قیام میں بنیادی اکائی ثابت ہوں اورجو دوقومی نظریہ کے تحفظ اور بقا کے لیے سرگرم عمل ہوں۔

یہ وہ تمام نظریات اور سرگرمیاں ہیں جن کی بناء پرمسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے اکابرین اور ان کا اعتماد حاصل کیاہے،طلبہ اور تعلیمی اداروں میں غیر معمولی مقبولیت پائی ہے اور دینی و عصری تعلیم یافتہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا قابل فخر اعزازحاصل کیا ہے،

ایم ایس او پاکستان غلبہ اسلام و استحکام پاکستان کا نصب العین رکھنے والی مستقل اور خودمختار طلبہ تنظیم ہے،طلبہ کے حقوق کا تحفظ اور یکساں نظام و نصاب تعلیم اس کی اولین ترجیح ہے،اسی وجہ سے ایم ایس او پاکستان نے تمام طلبہ تنظیموں اوریوتھ آرگنائزیشنزکو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے "مسلم طلبہ محاذ” کے نام سے گرینڈ الائنس کو وجود دینے اور کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے،

جس کے ذریعے طلبہ حقوق کی جدوجہد کو ایک نئی جہت اورراہیں ملیں، اسی پلیٹ فارم سے گستاخانہ خاکوں اور سوشل میڈیا پر آزادی اظہار رائے کے نام پر پیغمبر اسلام ﷺ اور مقدس شخصیات کے توہین کے ردعمل میں تحفظ ناموس رسالت کے لیے پرامن احتجاجی تحریک چلائی گئی اور ارباب اختیارکویہ اہم ایشو کو باور کروایا گیااس پر سنجیدہ کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا۔کرونا وبا کی وجہ سے لاک ڈاون اور تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے طلبہ کو تعلیم کے سلسلے میں درپیش مسائل کو اجاگر کرکے ان کے حل کے لیے اسلام آباد،لاہور،مری اور دیگر شہروں میں تعلیمی بیٹھک کا اہتمام کرنا مسلم طلبہ محاذ کا امتیاز ہے۔

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جدوجہد پر ایک نظر

اگر مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی جدوجہد کو طائرانہ نظر سے دیکھا جائے تو دینی وعصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کی اس نمائندہ تنظیم نے یکساں نظام و نصاب تعلیم کے لیے ایجوکیشن ریفارمز کے لیے بھرپور جدوجہدکی ہے، اسی طلبہ تنظیم نے تحفظ ناموس رسالت کے ایکٹ میں ترمیم کے خلاف اورسوشل میڈیا پر اصحاب رسول ﷺ واہلبیت سمیت مقدس شخصیات کی توہین کی روک تھام کے لیے صدائے احتجاج بلند کی

اور تحریک کی صورت میں اس نازک مسئلہ کو اجاگر کرکے رائے عامہ ہموار کی ہے۔یہی طلبہ تنظیم ہر میدان میں کشمیر،برما،شام اورفلسطین کے مظلوم مسلمان بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتی ہوئی نظر آئی ہے۔دخترپاکستان عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے آواز اٹھانا ہویا،ویلنٹائن ڈے،اپریل فوم جیسے مغربی اور حیاباختہ ایام کے برخلاف مشرقی روایات کے احیاء کے لیے” حیاڈے” کو فروغ دینا،اہم کردار اسی طلبہ تنظیم نے ادا کیاہے

جب کہ نظریہ پاکستان کے تناظرمیں غلبہ اسلام واستحکام پاکستان کی نظریاتی جدوجہد ایم ایس او پاکستان کی اولین ترجیح رہی ہے،الغرض ہر اہم موقع پر مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا کردار نمایاں رہا ہے۔
جب کہ 22مارچ 2013کی طرح مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے یکم اکتو بر 2021 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں دوسرا عظیم الشان علمی،فکری،نظریاتی اور اصلاحی” آل پاکستان طلبہ اجتماع "کے انعقاد کافیصلہ کیا ہے

قرآن و سنت کی بالادستی نظریاتی اساس

جو کہ اپنے تنائج اور ثمرات کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس عظیم الشان اجتماع کامقصد قرآن وسنت کی بالادستی،اسلام اور شعائر اسلام کے تحفظ اور اسلامی تہذیب وتمدن کا فروغ،ملک و ملت کے نظریاتی تشخص،فرقہ واریت،ناانصافی اور ظلم و استحصال سے پاک اسلامی و فلاحی معاشرے کے قیام،نوجوان نسل میں مغربی افکار،فکری ارتداد اورفحاشی وعریانی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی روک تھام

اور حکومت پاکستان کی طرف سے پرائمری تک یکساں نصاب تعلیم کے فیصلے کے خیر مقدم اور طلبہ وتعلیمی اداروں کے مسائل کو اجاگرکرناہے۔اسلام و دین دشمن قوتوں کی ایماء پر آئین پاکستان،تہذیب وتمدن،ثقافت اور شریعت کے منافی قانون سازی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا اس اجتماع کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔

یہ اجتماع نوجوان نسل میں شعور وآگہی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا، بلاشبہ نوجوانوں نسل کا ملکی ترقی کے لیے متحد ہونا اوریکجہتی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اوردینی وعصری تعلیم کے حامل نوجوانوں کا یہ عظیم اجتماع اتحاد و یکجہتی کی اعلیٰ مثال ہوگا۔

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان وطن عزیز کے طول وعرض میں پھیلے کالجز و یونیورسٹیز اور دینی مدارس وجامعات میں بھرپور وجود رکھتی ہے، جب کہ حضرت شیخ الھندمولانا محمود حسن دیوبندی ؒکے وژن کے مطابق ملاں اور مسٹر کی تفریق کو ختم کرکے ایک پلیٹ فارم پر لانا

MSOپاکستان کا عظیم کارنامہ ہے،ایسی عظیم فکر کے حامل نوجوان جو غلبہ اسلام و استحکام پاکستان کا ماٹو رکھتے ہیں،ان کا یکم اکتوبر کو اجتماع یقیناطلبہ جدوجہد میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

Translate »