Spread the love

سید عتیق الرحمن


آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 45 نشستوں پر عام انتخابات 25 جولائی 2021ء کو ہو رہے ہیں ۔ اس وقت تمام امیدواروں کی انتخابی مہم زوروں پر ہے۔

آزاد کشمیر کی بڑی سیاسی پارٹیوں میں سب سے پرانی پارٹی مسلم کانفرنس ہے جو 1931ء میں قائم ہوئی اور اج اس کی عمر نوے سال ہو چکی ہے ۔

مسلم کانفرنس سے مسلم لیگ تک

دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی ہے جو 1973ء میں آزاد کشمیر میں قائم ہوئی ۔ جب 1973 کے ایکٹ کے تحت یہاں الیکشن ہونا شروع ہوئے ۔ اس سے قبل کے ایچ خورشید کی لبریشن لیگ قائم ہو چکی تھی ۔

دس سال پہلے جس وقت مسلم کانفرنس کی حکومت سے اراکین اسمبلی کے اختلافات ہوئے تو راجہ فاروق حیدر کی قیادت میں مسلم لیگ ن کا قیام عمل میں لایا گیا

دس سال پہلے جس وقت مسلم کانفرنس کی حکومت سے اراکین اسمبلی کے اختلافات ہوئے تو راجہ فاروق حیدر کی قیادت میں مسلم لیگ ن کا قیام عمل میں لایا گیا جب کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف بھی آزاد کشمیر میں پہنچ چکی تھی ۔


یہ بھی پڑھیں 

  1. آزاد کشمیر انتخابات ،45 نشستیں‌،701 امیدوار،28 لاکھ ووٹرز،فیصلہ 25 جولائی
  2. قاتل مودی سے ملاقات کرنےوالے کشمیرکے نمائندے نہیں‌،مفادیوں‌کا ٹولہ ہے،آزاد قیادت
  3. 13 جولائی اورتحریک آزادی کشمیر کو دوام بخشنے والی 22 شہیدوں‌ کی اذان
  4. عمران خان،موجودہ حالات میں بھارت سے تعلقات کشمیریوں سے غداری ہوگی

اسی طرح جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کی بھی متعدد تنظیمیں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں ۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے موجودہ صدر مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے چوہدری لطیف اکبر ہیں

جو حلقہ کھاوڑہ سے پہلے متعدد بار ایم ایل اے منتخب ہوئے اور وزیر حکومت رہ چکے ہیں ۔ ان سے پہلے میر پور سے تعلق رکھنے والے چوہدری عبدالمجید پارٹی کے سربراہ تھے ۔

دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی ہے جو 1973ء میں آزاد کشمیر میں قائم ہوئی

پی ٹی ائی آزاد کشمیر کے سربراہ میرپور سے بیرسٹرسلطان محمود چوہدری ہیں جو 1996ء تک پیپلزپارٹی کی حکومت کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں ۔ بعد ازاں انہوں نے پیپلز پارٹی سے اپنی راہیں جدا کر لیں ۔

ازاد کشمیر کے سابق صدر اور وزیر اعظم رہنے والے سردار عبدالقیوم خان کا تعلق دھیر کوٹ غازی آباد سے تھا ان کے بیٹے سردار عتیق احمد خان اس وقت مسلم کانفرنس کے سربراہ ہیں ۔

پی ٹی ائی آزاد کشمیر کے سربراہ میرپور سے بیرسٹرسلطان محمود چوہدری ہیں جو 1996ء تک پیپلزپارٹی کی حکومت کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں

دس سال قبل جب وہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم تھے تو اس وقت وفاقی حکومت نے ان کا دھڑن تختہ کر دیا تھا وہ اپنی مدت پوری نہ کر سکے ۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ راجہ فاروق حیدر کا تعلق جہلم ویلی کے علاقہ چکار سے ہے ۔ ان کے والد راجہ حیدر خان مسلم کانفرنس کے اہم راہنما تھے ۔ 2016ء کے انتخابات میں ن لیگ کو لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل ہوئی اور تاحال وزارت عظمیٰ انہی کے پاس ہے ۔

آزادکشمیر میں نگران حکومت کا تصور نہیں

ازاد کشمیر میں نگران حکومت کا تصور نہیں ہے اس لیئے ہر حکومت اپنی مدت کے اختتام پر خود انتخابات کرواتی ہے۔

جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی ہیں ۔ جو باغ سے ایک بار الیکشن جیت کر ایم ایل اے رہ چکے ہیں جب کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ گزشتہ الیکشن میں اتحاد کر کے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر ایم ایل اے رہے ۔

جے یو آئی کا دھڑا پی ٹی آئی کا اتحادی

جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا سعید یوسف پلندری سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی جماعت کا کشمیر کے کسی حلقے میں بڑا ووٹ بنک موجود نہیں اسی طرح جموں کشمیر جے یو ائی کا ایک گروہ مفتی محمود الحسن کی قیادت میں پی ٹی آئی کا اتحادی ہے ۔

ان کے علاوہ پونچھ میں جموں کشمیر پیپلزپارٹی کی ایک نشست پر سردار ابراہیم کے بیٹے سردار خالد ابراہیم گزشتہ انتخابات میں ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے مگر ان کا انتقال ہو چکاہے

کے ایچ خورشید کی لبریشن لیگ مقبولیت پانے میں ناکام رہی

جموں و کشمیر لبریشن لیگ سابق صدر ریاست کے ایچ خورشید کی جماعت ہے خورشید الحسن خورشید ابتداء میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے سیکرٹری تھے بعد ازاں انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں جموں کشمیر لبریشن لیگ قائم کی ۔

اس وقت لبریشن لیگ کے سربراہ خواجہ منظور قادر ہیں ۔اگرچہ یہ جماعت اپنے قیام سے لیکر اب تک تقریباًہر انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہے لیں انتخابات میں اس جماعت کی مجموعی کارکردگی کبھی بھی متاثر کن نہیں رہی اور نہ ہی یہ جماعت کوئی بڑا ووٹ بینک رکھتی ہے

Translate »